ہجوم سے بچنے کیلئے عوام قبل ازوقت خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں
حیدرآباد۔2۔فروری(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے بیشتر بازاروں بالخصوص پرانے شہر کے بازاروں میں ماہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی رونق میں اضافہ ہونے لگا ہے اور شہری ماہ رمضان المبارک کے سلسلہ میں کی جانے والی خریداری ماہ مقدس کے آغاز سے قبل مکمل کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے تقدس اور اس ماہ مبارک کے اہم لمحات سے متعلق مسلسل آگہی اور شعور بیداری کے نتیجہ میں اب عوام نے ماہ صیام کے آغاز سے قبل ہی خریداری جیسے کاموں کو مکمل کرنے کو ترجیح دینی شروع کردی ہے ۔ پرانے شہر کے بازاروں میں جہاں بچوں اور خواتین کے ملبوسات فروخت کئے جاتے ہیں ان بازاروں میں ابھی سے ہجوم نظر آنے لگے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران ہجوم سے محفوظ رہنے کے لئے ابھی سے خریداری کے عمل کو مکمل کیا جانے لگا ہے ۔ بعض خریداری نے بتایا کہ ماہ مبارک کے دوران عبادتوں کا وقت ضائع نہ ہواس کے لئے وہ ابھی سے خریداری کے عمل کو مکمل کرتے ہوئے خود کو فارغ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض تاجرین نے بتایا کہ شہر کے بازاروں میں فی الحال جو ہجوم نظر آرہا ہے ان میں بڑی تعداد ریاست کے اضلاع سے ٹھوک خریدی کے لئے شہر حیدرآباد پہنچنے والوں کی ہے جو کہ ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل اپنی خریدی کو مکمل کرلیتے ہیں ۔ ریٹیل تاجرین کا کہناہے کہ گذشتہ کئی برسوں کے دوران پہلی مرتبہ شہر حیدرآباد میں ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہی خریداری کے رجحان میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔شہریوں اور خریداری میں مصروف گاہکوں کا کہناہے کہ ماہ رمضان المبارک کے آغاز کے بعد مقدس ساعتوں کو خریداری میں ضائع کرنے کے بجائے وہ ماہ مبارک کے آغاز سے قبل خریداری کے عمل کو مکمل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ ماہ رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں کو خریداری میں ضائع نہ کرنے کے سلسلہ میں کئی برسوں سے مہم چلاتے ہوئے علماء اکرام و مشائخین عظام کے علاوہ ذمہ داران و عمائدین ملت کی جانب سے شعور بیداری کے اقدامات کئے جا رہے تھے اور اب اس مہم کے مثبت نتائج برآمد ہونے لگے ہیں ۔تاجرین کاکہنا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران کی جانے والی خریداری کے دوران صرف مسلمان خریداری نہیں کرتے بلکہ کسی بھی تہوار کے دوران تجارتی اداروں کی جانب سے پیش کی جانے والی رعایتوں اور پرکشش سیل سے استفادہ کرنے والوں میں بیشترتمام مذاہب کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔3