رنگاریڈی کی 16میونسپلٹیز میں کانگریس کا بہتر مظاہرہ یقینی

   

Ferty9 Clinic

سینئر قائدین کا اجلاس، ملو روی،وشویشور ریڈی، مال ریڈی رنگاریڈی اور دوسروں کی شرکت

حیدرآباد۔/13 جولائی، ( سیاست نیوز)رنگاریڈی ضلع میں مجوزہ بلدی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے سینئر کانگریس قائدین کا اجلاس صدرضلع کانگریس نرسمہا ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پردیش کانگریس کے نائب صدر و انچارج ضلع رنگاریڈی، سابق رکن پارلیمنٹ کے وشویشور ریڈی، سابق ارکان اسمبلی ومشی چند ریڈی، مال ریڈی رنگاریڈی اور دوسروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں طئے کیا گیا کہ رنگاریڈی میں کانگریس پارٹی کے کیڈر کو مستحکم کیا جائے تاکہ بلدی انتخابات میں بہتر نتائج برآمد ہوسکیں۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ملوروی نے بتایا کہ اتم کمار ریڈی نے انہیں میونسپل انتخابات کا انچارج مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابراہیم پٹنم میں ضلع کے قائدین اور کارکنوں کا اجلاس منعقد کیا جارہا ہے۔ رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور دیگر قائدین اجلاس میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ رنگاریڈی میں 16 میونسپلٹیز ہیں اور ہر میونسپلٹی کیلئے ایک کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس اندرون دو یوم منعقد ہوں گے جن میں مقامی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بہتر امیدواروں کے ناموں کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کے انتخاب کے سلسلہ میں سلیکٹ اینڈ الیکٹ طریقہ کار پر عمل ہوگا۔ پارٹی قائدین وارڈز کا دورہ کرتے ہوئے عوامی مقبولیت رکھنے والے قائدین کی نشاندہی کریں گے اور مقامی افراد کی سفارش پر امیدوار کا نام طئے کیاجائے گا۔ پارٹی اسی امیدوار کو بی فارم حوالے کرے گی اور انتخابات میں کامیاب بنانا عوام اور مقامی کیڈر کی ذمہ داری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار سے عوامی مقبولیت رکھنے والے امیدواروں کا انتخاب ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس پارٹی رنگاریڈی میں مضبوط موقف کی حامل ہے اور میونسپلٹیز کے نتائج کانگریس کے حق میں ہوں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوامی مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے کے سی آر اسمبلی اور سکریٹریٹ کی نئی عمارتوں کی تعمیر کیلئے موجودہ عمارتوں کو منہدم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں کروڑ روپئے ضائع کرنے کے بجائے انہیں عوام کی ترقی اور بھلائی پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ ملو روی نے کہا کہ عوام نے حکومت کے اقدامات کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے جس کا اندازہ بلدی انتخابات میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں ٹی آر ایس حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عوام نے بی جے پی اور کانگریس کے امیدواروں کو منتخب کیا۔ مال ریڈی رنگاریڈی نے یاددلایا کہ کے سی آر نے حیدرآباد کو ڈیلاس شہر کی طرح ترقی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن حیدرآباد شہر آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ معمولی بارش کے ساتھ ہی ٹریفک نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل انتخابات میں اگر کانگریس پارٹی کامیاب ہوتی ہے تو وہ حکومت پر دباؤ بناکر ترقیاتی کام کراسکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکومت سے سوال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ رنگاریڈی نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے اسمبلی اجلاس طلب کیا گیا ہے اور اسمبلی میں کے سی آر پھر ایک بار حیدرآباد کی ترقی کے بارے میں بلند بانگ دعوے کریں گے۔