پیرس : فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے افریقی ملک روانڈا میں 1990 کے عشرے میں ہونے والی نسل کشی سے متعلق فرانس کے قومی آرکائیوز کو کھول دیا ہے۔ اس سے اس نسل کشی میں فرانس کے کردار کو بہتر طور پر سمجھنے اور جانچنے میں مدد ملے گی۔میکروں کے دفتر نے افریقی ملک میں فرانس کی سرگرمیوں سے متعلق تقریبا 8000صفحات پر مشتمل رپورٹ کو عام کرنے کا عہد کیا ہے جو اب تک خفیہ رکھی گئی تھی۔ حکومت نے گزشتہ مارچ میں اس رپورٹ کوجاری کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روانڈا میں نسل کشی کی تیاریوں کے دوران کس طرح فرانس کی حکومت اندھی اور بہری بن گئی تھی۔ صدر میکرون رپورٹ عام کر کے اس کی مدد سے روانڈا سے تعلقات بھی بہتر کرنے کی کوشش میں ہیں۔ادھر روانڈا کے صدر پال کیجامی نے بھی اس رپورٹ کو، ’’اس دوران جو کچھ بھی ہوا اس کی عام تفہیم کی سمت میں ‘‘ ایک اہم قدم سے تعبیر کیا۔انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ اس رپورٹ کے منظر عام پر لانے سے’فرانس کے قائدین کی بھی اس خواہش کا اظہار ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی ہوا اس کی بہتر افہام و تفہیم کے ساتھ ہم آگے بڑھیں۔”روانڈا میں ہونے والی نسل کشی سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”نسل پرستی اور تشدد” کے معاملے میں فرانس نے اس وقت روانڈا کے صدر جوئینال ہیبیاری مانا کی حکومت کی حمایت کی تھی اور پھر بعد میں قتل عام کے خاتمے پر حوصلہ افزائی کرنے میں بھی بہت سستی سے کام لیا۔لیکن رپورٹ میں فرانس کے اس وقت کے صدر فرانسواں متراں حکومت کو اس نسل کشی میں ملوث ہونے سے بری کر دیا گیا ہے جس میں تقریبا ًآٹھ لاکھ افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔