راجستھان میں ’’مجسمۂ امن‘‘ کی رونمائی پرویڈیو کانفرنس سے خطاب
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ روحانی رہنماؤں نے جنگ آزادی کے وقت جس طرح سے مختلف علاقوں میں ملک کو خود کفیل بنانے کے لیے جدوجہد کی تھی’ اسی طرح اب انھیں مقامی اشیاء کے استعمال کو فروغ دینے کی خاطر عوامی بیداری لانی ہوگی تاکہ ملک ہر طرح سے خود کفیل بن سکے ۔ مودی نے آج یہاں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سے راجستھان کے ضلع پالی میں جین سنت آچاریہ وجے ولبھ سوریشورجی کے مجسمے ‘اسٹیچو آف پیس’ کا افتتاح کرنے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقامی اشیاء کے استعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ آزادی کے وقت کی طرح روحانی رہنماؤں کو خود کفیل ہونے کا پیغام دینا ہوگا اور مقامی اشیاء کے فوائد کو عام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے عوام نے دیوالی کے وقت مقامی اشیاء کو ترجیح دی’ اس سے اچھا ماحول بنا ہے اور جوش و ولولہ عام ہوا ہے ’۔انہوں نے کہا،‘میری خوش بختی ہے کہ مجھے ملک نے دنیا کی سب سے اونچے سردرا بلبھ بھائی پٹیل کے ‘اسٹیچو آف یونٹی’ کے افتتاح کا موقع دیا تھا اور آج جین آچاریہ وجے ولبھ جی کے مجسمے ‘اسٹیچو آف پیس’ کا افتتاح کا موقع مل رہا ہے ۔ ہندوستان نے ہمیشہ پوری دنیا کو، انسانیت کو امن، عدم تشدد اور بھائی چارے کی راہ دکھائی ہے ۔ یہ وہ پیغام ہیں جن کی تحریک دنیا کو ہندوستان سے ملتی ہے ۔ اسی رہنمائی کے لیے دنیا ایک بار پھر ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ ملک کی تعمیر کے لیے عوام کو بیدار کرنے اور ان کی رہنمائی کرنے میں سنتوں کی حصہ داری کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ ہندوستان کی تاریخ آپ دیکھیں تو آپ محسوس کریں گے ، جب بھی ہندوستان کو داخلی روشنی کی ضرورت ہوئی ہے ، سنت روایت سے کوئی نہ کوئی سورج طلوع ہوا ہے ۔ کوئی نہ کوئی بڑا سنت ہر دور میں ہمارے ملک میں رہا ہے ، جس نے اس دور کے پیش نظر سماج کو جہت دی ہے ۔ آچاریہ ولبھ جی انہی میں سے ایک سنت تھے ۔مودی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ ’’ووکل فار لوکل‘‘ پر زائد توجہ دی جائے۔ کیوں کہ مقامی سطح پر ہر چیز کا استعمال ہمیں اپنے وطن سے محبت کرنا سکھاتا ہے۔ لوگ امپورٹیڈ (درآمد شدہ) اشیاء کے پیچھے بھاگتے ہیں حالانکہ کئی بار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ بیرونی اشیاء غیر معیاری ہوتی ہیں اور مقامی اشیاء اُن سے بہتر ہوتی ہیں۔ لہذا ووکل فار لوکل ایک ایسا فارمولہ ہے جس کے تحت مقامی اشیاء کی سفارش کی جانی چاہئے تاکہ گھریلو صنعت سے وابستہ خواتین کو بھی بہ اختیار بنایا جاسکے۔
