دو ای سیوا مراکز مہر بند ، تحصیلدار بنڈلہ گوڑہ کی کارروائی
شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیم کے استفادہ کنندگان سے اضافی رقم وصولی کی شکایت پر اقدام
حیدرآباد۔10۔نومبر(سیاست نیوز) شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیم سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے درخواست داخل کرنے والوں کے ساتھ کی جانے والی می ۔ سیوا مراکز کی حرکتوں اور کمیشن کی وصولی کی شکایات کے سلسلہ میں روزنامہ سیاست میں 9نومبر کو شائع ہونے والی خصوصی رپورٹ کے فوری بعد تحصیلدار بندلہ گوڑہ مسز فرحین شیخ نے فوری کاروائی کرتے ہوئے می سیوا مراکز پر دھاوے کئے اور ان کے پاس موجود دستاویزات ضبط کرنے کے احکامات جاری کرنے کے علاوہ دو مراکز کو مہربند کرنے کی کاروائی انجام دی اور ان مراکز کو لائسنس کے حصول کے علاوہ کوئی بھی درخواست آن لائن کرنے کی فیس کے بورڈ آویزاں کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محترمہ فرحین شیخ نے بتایا کہ شکایات کی وصولی کے بعد یہ کاروائی کی گئی کاروائی کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ می سیوا مراکز اور انٹرنیٹ سنٹرس آپسی تال میل کے ذریعہ سرکاری اسکیمات کی درخواستوں کے ادخال کی کاروائی کر رہے ہیں بلکہ ان مراکز میں نکاح نامہ اور میاریج سرٹیفیکیٹ کے حصول کی بھی کاروائی کی جا رہی ہے ۔ بندلہ گوڑہ تحصیلدار کے حدود میں 3خصوصی ٹیموں کی تشکیل عمل میں لائی گئی جن میں ایک ٹیم کی وہ خود نگرانی کر رہی ہیں جبکہ دوٹیموں کی نگرانی ڈپٹی تحصیلدار کر رہے ہیں۔ وہ ہر ہفتہ می سیوا مراکز کا اچانک معائنہ کرتے ہوئے صورتحال سے آگہی حاصل کریں گی علاوہ ازیں عوام میں شعور بیدار کرتے ہوئے انہیں اس بات سے واقف کروانے کے اقدامات کئے جائیں گے کہ درخواستوں کے ادخال کے لئے انہیں کسی قسم کے کمیشن یا بڑی رقومات ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ صرف آن لائن درخواست داخل کرتے ہوئے اس کی نقل حاصل کریں اور تحصیلدار کے دفتر میں جمع کروادیں اوراندرون 30 یوم ان کی درخواست کی یکسوئی کردی جائے گی۔ محترمہ فرحین شیخ نے بتایا کہ وہ اس بات کی تحقیقات بھی کر رہی ہیں کہ آن لائن درخواست داخل کئے جانے کے60تا90 یوم گذر جانے کے باوجود بھی ان کے دفتر کو درخواستوں کی کاپی وصول نہیں ہوئی ہیں اس سلسلہ میں انہوں نے بعض درخواست گذاروں سے رابطہ قائم کرتے ہوئے تفصیلات بھی حاصل کی ہیں۔انہوں نے می سیوا مراکز کے ذمہ داروں کو غریب اور مجبور عوام کو ہراساں کرنے پر سخت کاروائی کا انتباہ دیا اور کہا کہ اس طرح کی حرکتوں میں ملوث پائے جانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔م