تہران : امریکہ ایسا واحد ملک نہیں ہے جو ایران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ تہران، واشنگٹن معاہدے کی ضمانت فراہم کرے گا اور اسلامی جمہوریہ پر سے پابندیاں ہٹائے گا، بلکہ روس اور چین تہران کے لیے ’’زیادہ قابل اعتماد ضمانتوں‘‘ کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ بات ایران کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے رکن علاء الدین بروجردی نے کہی۔ ایرانی سرکاری ایجنسی ایس این این نے بروجردی کے حوالے سے بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے دوران نہ صرف امریکہ کی طرف سے ضمانتیں فراہم کی جائیں گی، بلکہ روس اور چین جیسے ممالک مزید قابل اعتماد ضمانتوں پر امریکہ کے ساتھ بات چیت کریں گے ۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعرات اور جمعہ کو ماسکو کے سرکاری دورے پر تھے اور اگلے چند دنوں میں مسٹر عراقچی چین کا دورہ کریں گے ۔ اپنے دورہ روس کے دوران ایرانی سفارت کار نے روسی رہنما ولادیمیر پوتن سے ملاقاتیں اور بات چیت کی اور انہیں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا پیغام پہنچایا۔ مسٹر عراقچی نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی بات چیت کی۔ فریقین نے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ ساتھ امریکہ، ایران مذاکرات کے ارد گرد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جس کا پہلا دور 12 اپریل کو عمان میں ہوا تھا۔