محمد عبدالعزیز صدر ایم پی جے کا شدید ردعمل
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اکٹوبر : ( پریس نوٹ) : صدر مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس تلنگانہ محمد عبدالعزیز نے صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ریاست تلنگانہ کی گزشتہ حکومتوں نے اردو میڈیم اساتذہ کے تقررات کو عمداً نظر انداز کردیا تھا لگتا ہے انہیں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے موجودہ کانگریس حکومت نے اس اہم ترین عوامی مسئلے کو حل کرنے کے بجائے پس پشت ڈال رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوالیفائیڈ ، تربیت یافتہ اور مستحق اردو میڈیم اساتذہ ، اپنے حق کے حصول کے لیے پہلے پرگتی بھون کا چکر لگایا کرتے تھے اور آج یہی بیروزگار اساتذہ ، اپنے حق کے حصول کے لیے گاندھی بھون میں حاضری دینے لگے ہیں ۔ اب کی بار انہیں اس بات کا خدشہ بھی ساتھ لگا ہوا ہے کہ اس سال جب ان کی سرکاری ملازمت کی حد عمر ختم ہوجائے گی اور اگر اب کی بار بھی انہیں ملازمت نہیں ملی تو شاید انہیں پھر کوئی سرکاری ملازمت نہیں ملے گی کیوں کہ وہ سرکاری ملازمت کے دستوری حق سے خود بخود محروم ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کا ایک حل ہے جس سے حکومت کے ذمہ داران بھی بخوبی واقف ہیں ۔ وہ یہ کہ محفوظ جائیدادوں کو عام زمرے میں تبدیل کرنے کے سرکاری احکامات جاری کئے جائیں ۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر موجودہ برسراقتدار حکومت نے اس ضمن میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تو اس کے خلاف عوام کا غم و غصہ ، احتجاج ، ہڑتال اور زنجیری بھوک ہڑتال کی شکل اختیار کرسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی جے تلنگانہ ، اساتذہ کے اس جائز مطالبے کے حصول تک ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے ۔ سرکاری اسکولوں میں اردو میڈیم اساتذہ کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے ۔ نتیجتاً ان اسکولوں میں طلباء کی تعداد میں بھی مسلسل گراوٹ آرہی ہے ۔ آخر میں انہوں نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے محفوظ زمرے کی مخلوعہ جائیدادوں کو عام زمرے میں تبدیل کر کے حالات کو سدھارنے کی جستجو کی جائے اور یہی اس مسئلے کا واحد عملی حل ہے ۔۔