روسی شہر بیلگورود پر حملہ میں اموات کی تعداد20ہوگئی

,

   

برطانیہ اور امریکہ پر حملہ میں ملوث ہونے کا الزام ، سلامتی کونسل کا اجلاس طلب

ماسکو : روسی شہر بیلگورود پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے۔روسی وزارت برائے ایمرجنسی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں 20 افراد ہلاک اور 111 زخمی ہوئے۔امور خارجہ نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے شہر بیلگوروڈ پر حملے کی تنظیم میں برطانیہ اور امریکہ ملوث تھے۔روسی تحقیقاتی کمیٹی نے یہ بھی بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے کہا کہ بیلگورود پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین کی فوج محاذ پر کمزور ہے۔روسی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق تاتیانا موسکالکووا نے بین الاقوامی تنظیموں سے حملے کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔بتایا گیا ہے کہ روس نے بیلگورود میں ہونے والے حملے اور اس اجلاس میں سلامتی کونسل میں چیک نمائندے کی شرکت کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔بیلگورودکے علاقائی گورنر ویاچسلاو گلادکوف نے گزشتہ روز ٹیلی گرام چینل پر اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین کی فوج نے بیلگوروڈ شہر پر حملہ کیا اور 61 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔روسی امور دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملہ 2 کلسٹر پر مشتمل ’’اولہا‘‘ میزائل اور جمہوریہ چیک کے ساختہ “ویمپائر” راکٹوں سے کیا گیا اور بتایا گیا کہ ان میں 2 بچوں سمیت 14 افراد ہلاک ہوئے۔روس کی درخواست پر بلائے گئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کے شہر بیلگورود پر یوکرین کے حملے کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ، ایشیا اور بحرالکاہل کے لیے اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد خیاری نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا۔خیاری نے کہا کہ دو روز قبل روس کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں میں کم از کم 39 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور یوکرین کے شہر بیلگوروڈ پر ہونے والے حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔انہوں نے کہا کہ کہ دونوں ممالک میں مختلف حملوں میں شہریوں کی ہلاکت ناقابل قبول ہے، یوکرین اور روسی فیڈریشن دونوں میں شہروں اور دیہاتوں پر ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور انہیں ختم ہونا چاہیے۔خیاری نے کہا کہ اقوام متحدہ کی حیثیت سے وہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور اس کے لیے وہ کوششیں کر رہے ہیں۔