روسی و امریکی صدر میں ٹیلیفونک رابطہ

   

ماسکو؍ واشنگٹن روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین پر ممکنہ حملہ اور جنگ کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر گزشتہ روز اہم ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ خبر کے مطابق، جو بائیڈن سے بات کرنے سے قبل روسی صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جنہوں نے رواں ہفتہ کے آغاز میں ماسکو میں ان سے ملاقات کی تاکہ سرد جنگ کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے سب سے بڑے سلامتی بحران کو حل کیا جا سکے۔ کریملن کی جانب سے جاری روسی اور فرانسیسی صدر کے درمیان اس رابطے کی تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ تناؤ کو کم کرنے کی جانب کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق جوبائیڈن اور ولادیمیر پوٹن کے درمیان اہم کال صرف ایک گھنٹے تک جاری رہی جو کہ جو بائیڈن نے کیمپ ڈیوڈ سے کی تھی۔ بات چیت میں امریکہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ اگر روسی فوج نے حملہ کیا تو اسے فوری اور سخت ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا، بات چیت کی مزید تفصیلات دستیاب نہیں۔ بدترین صورتحال کے لیے تیار ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے امریکہ نے یوکرین کے دارالحکومت میں اپنا سفارت خانہ خالی کرنے کا اعلان کردیا، دیگر یورپی ممالک کے بعد اب برطانیہ نے بھی اپنی شہریوں کو یوکرین چھوڑنے پر زور دیا ہے۔ روس نے یوکرین کی سرحد کے قریب ایک لاکھ سے زیادہ فوجی اکھٹے کرلیے ہیں اور اس نے ہمسایہ ملک بیلاروس میں مشقوں کے لیے فوجی بھیجے ہیں، تاہم روس نے یوکرین کے خلاف کارروائی کے ارادے سے انکار کیا ہے۔ کسی بھی ممکنہ روسی فوجی کارروائی پر عملدرآمد کا وقت اب بھی ایک سوال ہے۔