روسی پارلیمنٹ کی قرارداد منِسک سمجھوتوںکی صریحاً خلاف ورزی: بلنکن

   

واشنگٹن ۔ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرین سے متعلق روسی ڈوما کی قرارداد ‘مِنسک سمجھوتوں’ کی صریحاً خلاف ورزی ہے، اور اس سے یوکرین کی کشیدگی کے معاملے پر روس کی جانب سے اختیار کردہ سفارت کاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نیروسی قانون سازوں کی جانب سے مشرقی یوکرین سے علیحدہ ہونے والیروس کے حامی دو علاقوں کو آزاد ملک تسلیم کیے جانے کے حق میں قرارداد منظور کرنے کی مذمت کی ہے۔ روس کے ایوان زیریں نے منگل کو ایک قرارداد منظور کی جس میں صدر ولادیمیر پوٹن سے کہا گیا ہے کہ ڈونیسک اور لہانسک کی جمہوریاؤں کو تسلیم کیا جائے، جنھوں نے سال 2014ء میں یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، جب یوکرین کے انقلاب کے دوران صدر وکٹر یانکو وچ کو عہدہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یورپی یونین نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ روسی پالیمان کے ایوان زیریں کی منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد نہ کریں۔ قرارداد کی منظوری کے نتیجے میں روس اور مغربی ملکوں کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ کا امکان ہے، جب کہ روس کی جانب سے یوکرین کی سرحدوں کے ساتھ فوج تعینات کرنے کے معاملے پرپہلے ہی تناؤ شدت اختیار کرچکا ہے، جس سے روسی حملے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ روس نے اس بات کو مسترد کیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کا ارادہ رکھتا ہے، اورالزام لگایا ہے کہ کشیدگی کو مغربی ملک ہوا دے رہے ہیں۔