روس۔ یوکرین جنگ بندی تاحال غیر یقینی

   

غزہ پر عدم توجہ، ٹرمپ کی نئی مہلت اور پوٹن کی سخت شرائط جنگ بندی میں تاخیر کے ذمہ دار

واشنگٹن ؍ ماسکو؍ کیف۔ 23 اگست (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات اور جنگ بندی پر بات چیت کے لیے نئی مہلت دے دی ہے۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ پوٹن کو چند ہفتوں کا وقت دے رہے ہیں تاکہ وہ یوکرینی صدر سے ملاقات کریں اور جنگ کے خاتمہ کے امکانات پر بات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دیکھیں گے قصور کس کا ہے۔ میں نے انہیں ملاقات کرنے کا کہا ہے، اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ ملاقات کرتے ہیں یا نہیں۔ ٹرمپ کے مطابق آئندہ دو ہفتوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔ تاہم روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے صدر پوٹن اور زیلنسکی کے درمیان فوری ملاقات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔ دوسری جانب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صدر پوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمہ کے لیے سخت شرائط عائد کی ہیں۔ ان شرائط میں یوکرین کا مشرقی سرحدی شہر ڈونباس سے دستبردار ہونا، ناٹو میں شمولیت کا ارادہ ترک کرنا اور مشرقی سرحد سے ناٹو افواج کو ہٹانا شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان مطالبات کے بدلے روس بعض علاقوں سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی پیشکش نے اگرچہ سفارتی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے لیکن پوٹن کی شرائط اور روسی مؤقف کے باعث فی الحال جنگ بندی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔

پوتن اور زیلنسکی کو اکٹھا کرنا تیل اور سرکے کو ملانے جیسا: ٹرمپ
واشنگٹن،23 اگست (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پوتن اور زیلنسکی کو ملاقات کیلئے اکٹھا کرنے کو تیل اور سرکے کوآپس میں ملانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں روسی اور یوکرینی ہم منصبوں کے درمیان ملاقات کے امکان کے بارے میں کہا کہ ہم یہ دیکھنے جا رہے ہیں کہ کیا پوتن اور زیلینسکی ایک ساتھ کام کریں گے ۔ یہ تیل اور سرکہ کی طرح ہے کیونکہ وہ بہت اچھی طرح سے نہیں مل پاتے ۔ انہوں نے واشنگٹن میں پیپلز ہاؤس نمائش میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران یہ بات کہی۔