کیف ۔ 7 اپریل (ایجنسیز) یوکرینی انٹلیجنس کے ایک جائزے سے انکشاف ہوا ہے کہ روسی سیٹلائٹس نے مشرقِ وسطیٰ بھر میں فوجی تنصیبات اور اہم مقامات کی درجنوں تفصیلی سکیننگ کی ہے تاکہ ایران کو امریکی افواج اور دیگر اہداف کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکے۔رائیٹرز کی جانب سے دیکھے گئے اس جائزے کے مطابق روسی اور ایرانی ہیکرز سائبر سکیورٹی کے شعبے میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔یہ جائزہ اس حوالے سے اب تک کی سب سے تفصیلی رپورٹ ہے کہ 28 فروری کے روز اسرائیل اور امریکہ کے حملے شروع ہونے کے بعد سے روس کس طرح ایران کو خفیہ مدد فراہم کر رہا ہے۔بغیر تاریخ کے اس جائزے میں بتایا گیا ہے کہ روسی سیٹلائٹس نے 21 مارچ سے 31 مارچ سنہ 2026ء کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے 11 ممالک میں کم از کم 24 بار مختلف علاقوں کی سکیننگ کی، جس میں 46 اہداف بشمول امریکی و دیگر فوجی اڈے، ہوائی اڈے اور تیل کے ذخائر شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق ان سکیننگز کے چند ہی روز بعد ان فوجی اڈوں اور صدر دفاتر کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جسے رپورٹ میں ایک واضح پیٹرن قرار دیا گیا ہے۔ایک مغربی فوجی ذریعے اور مشرقِ وسطیٰ کے ایک الگ سکیورٹی ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ ان کے پاس موجود انٹیلی جنس معلومات بھی خطے میں روسی سیٹلائٹس کی شدید سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں اور یہ تصاویر ایران کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔نئی پیش رفت کے طور پر جائزے میں مزید بتایا گیا ہے کہ روسی سیٹلائٹس آبنائے ہرمز کی بھی سرگرمی سے نگرانی کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک حساس اہمیت کی حامل بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے اور جہاں ایران نے “غیر معاند بحری جہازوں” کے علاوہ تمام جہازوں کا عملی طور پر محاصرہ کر رکھا ہے۔ رائیٹرز آزادانہ طور پر یوکرینی جائزے کے مندرجات کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی جانب سے ایران کیلئے کوئی بھی بیرونی مدد امریکی آپریشنز کی کامیابی پر اثر انداز نہیں ہوتی۔W/H
ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا، جبکہ روسی وزارتِ دفاع جس نے چار سال قبل یوکرین کے خلاف جنگ شروع کی تھی نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔یورپی رہ نماؤں نے گذشتہ ماہ جی سیون کے اجلاس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پر اس معاملے کے حوالے سے دباؤ ڈالا تھا۔ دو سفارت کاروں کے مطابق روبیو نے ان الزامات کا جواب نہیں دیا، اگرچہ وہ عوامی طور پر ایران کیلئے روسی امداد کو غیر اہم قرار دے چکے ہیں۔W/H