کیف : یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے کل منگل کی شام کہا ہے کہ روس میں ڈرون طیارے بنانے کے ایک مقام پر چینی شہری کام کر رہے ہیں۔ زیلنسکی نے اس جانب اشارہ کیا کہ ممکن ہے ماسکو نے چین سے ڈرون ٹیکنالوجی “چوری” کی ہو۔یہ بیان انہوں نے کئیف میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ چند روز قبل زیلنسکی نے دعویٰ کیا تھا کہ چین روس کو ہتھیار اور بارود فراہم کر رہا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ یوکرین نے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت پر ماسکو کو براہِ راست فوجی امداد دینے کا الزام عائد کیا۔ چین نے اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا۔یوکرینی وزارتِ خارجہ کے مطابق انھوں نے چین کے سفیر “ما شینگ کون” کو طلب کیا اور جنگ میں چین کے ممکنہ کردار پر “شدید تشویش” کا اظہار بھی کیا۔زیلنسکی نے ممکنہ طور پر روس کے چین سے ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا ذکر کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ ہو سکتا ہے یہ سب کچھ بیجنگ کی لاعلمی میں ہوا ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چین کے حوالے سے اپنے لہجے کو نرم کر رہے ہیں، کیوں کہ چین کا دعویٰ ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے معاملے پر “غیر جانب دار” ہے۔زیلنسکی نے اس ماہ کے آغاز میں بھی کہا تھا کہ روس سوشل میڈیا کے ذریعے چینی شہریوں کو اپنی فوج میں بھرتی کر رہا ہے، اور چینی حکام کو اس کی خبر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ آیا ان بھرتی شدہ افراد کو چین کی طرف سے ہدایات دی جا رہی ہیں یا نہیں۔