روس کا عالمی عدالت کے استغاثہ پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ

   

جنیوا : 5فبروری ( ایجنسیز ) اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ماسکو کی ایک عدالت کی بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے استغاثہ اور آٹھ موجودہ ججوں کے خلاف سنائی گئی سزا کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔12 دسمبر کو ماسکو سٹی کورٹ نے ICC کے استغاثہ کریم خان اور 8ججوں کو اْن الزامات پر سزا سنائی جو روسی حکام نے روسی شہریوں کے خلاف غیر قانونی مقدمہ چلانے سے متعلق سنائے تھے۔ان حکام کو تین سے پندرہ سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیںجبکہ کریم خان کو پندرہ سال کی سزا دی گئی اور انہیں بین الاقوامی سطح پر مطلوب قرار دے دیا گیا۔ ماہرین نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سزائیں بین الاقوامی قانون کے تحت ناقابل قبول ہیں۔انہوں نے کہا کہ الزامات ICC کی اْن سرگرمیوں سے وابستہ ہیں جو مبینہ جنگی جرائم کے سلسلے میں روس کے یوکرین میں کیے گئے حملوں سے متعلق ہیں، جن میں 2023 میں صدر ولادیمیر پوتن اور روسی بچوں کے حقوق کی کمشنر ماریا لووا بیلووا کے خلاف جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹس بھی شامل ہیں۔ماہرین نے زور دیا کہ روم اسٹیچیوٹ کے تحت ICC کے ججوں اور پراسیکیوٹرز کو عملی حفاظتی استثنا کے ذریعے تحفظ حاصل ہے اور ملکی عدالتیں ان کے پیشہ ورانہ اختیارات کے لیے اْن پر مقدمہ نہیں چلا سکتیں۔انہوں نے مزید کہا کہ باضابطہ اطلاع یا قانونی نمائندگی کے بغیر غیر موجودگی میں ہونے والے مقدمات کم از کم قانونی عمل کے معیار پر پورا نہیں اترتیاور روس سے اپیل کی گئی کہ وہ ان سزاؤں کو منسوخ کرے اور بین الاقوامی وارنٹس واپس لے۔