ماسکو۔29؍مارچ ( ایجنسیز) روس نے یکم اپریل سے پٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد عالمی توانائی منڈی میں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پابندی ابتدائی طور پر اکتیس جولائی 2026 تک نافذ رہنے کا امکان ہے۔ اس فیصلے سے وہ ممالک زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جو روسی ریفائنڈ پٹرول پر انحصار کرتے ہیں جن میں چین، ترکی، برازیل اور افریقہ کے کئی ممالک شامل ہیں۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث روس نے اپنے بفر اسٹاک کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ روس دنیا کا بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی برآمدی پالیسی میں تبدیلی کا براہ راست اثر عالمی منڈی پر پڑتا ہے۔ اس پابندی کا اطلاق یوریشین اکنامک یونین کے رکن ممالک اور ان ممالک پر نہیں ہو گا جن کے ساتھ روس کے خصوصی معاہدے موجود ہیں۔