ماسکو: روس کا لونا 25 خلائی جہاز گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ خلائی ایجنسی روسکوسموس نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔ خلائی ایجنسی نے کہا کہ ہفتہ کی شام 5:27 بجے پر اس کا خلائی جہاز سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ پری لینڈنگ مدار کو تبدیل کرتے ہوئے اس میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی تھی۔ لونا کو 21 اگست کو چاند کے قطب جنوبی پر اترنا تھا۔روسکوسموس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ایجنسی نے انکشاف کیا کہ مشن کے اس نازک مرحلے کے دوران ایک غیر متوقع مسئلے کی وجہ سے خلائی جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔روسکوسموس نے اطلاع دی کہ Luna-25کے فلائٹ پروگرام کے مطابق پری لینڈنگ مدار (18 کلومیٹر x 100 کلومیٹر) میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔یہ حکم ہفتہ کو ہندوستانی وقت کے مطابق شام 4:30 بجے دیا گیا۔ اس دوران لونا پر ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی کیونکہ خلائی جہاز مقررہ پیرامیٹرز کے مطابق تھرسٹر کو فائر نہیں کر سکتا تھا۔ ایجنسی نے انکشاف کیا کہ مشن کے اس نازک مرحلے کے دوران ایک غیر متوقع مسئلے کی وجہ سے خلائی جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ کرافٹ کو تلاش کرنے اور اس سے رابطہ کرنے کیلئے 19 اور 20 اگست کو کیے گئے اقدامات ناکام رہے۔ خلائی ایجنسی نے کہا کہ ابتدائی تجزیے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ خلائی جہاز ان پیرامیٹرز سے ہٹ گیا جو حساب کے مطابق طے کیے گئے تھے۔ اس کی وجہ سے خلائی جہاز ایک آف ڈیزائن مدار میں چلا گیا اور چاند پر گر کر تباہ ہوگیا۔خلائی ایجنسی نے کہا کہ حادثے کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات کی جائیں گی۔
، لیکن اس نے کوئی اشارہ نہیں دیا کہ کیا تکنیکی مسائل پیش آئے ہیں۔ماسکو نے سوویت دور کے لونا پروگرام کے ورثے پر Luna-25 کے ساتھ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا جو مغرب سے بڑھتی ہوئی تنہائی کے پیش نظر چاند کی خود مختار تحقیق کی طرف واپسی کا اشارہ دیتا ہے۔Luna-25 کو 11 اگست کو Vostoni Cosmodrome سے Soyuz 2.1B راکٹ کے ذریعے لانچ کیا گیا۔ لونا 25 کو اسی دن زمین کے مدار سے چاند پر بھیجا گیا تھا۔ خلائی جہاز 16 اگست کو دوپہر 2 بجکر 27 منٹ پر چاند کے 100 کلومیٹر کے مدار میں پہنچا۔روس نے 47 سال بعد چاند پر اپنا مشن بھیجا تھا۔ اس سے قبل 1976 میں اس نے Luna-24 مشن بھیجا تھا۔ Luna-24 تقریباً 170 گرام چاند کی دھول کے ساتھ بحفاظت زمین پر واپس آیا تھا۔ اب تک جتنے بھی چاند مشن ہوئے ہیں وہ چاند کے خط استوا پر پہنچ چکے ہیں، یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی مشن چاند کے قطب جنوبی پر اترنے والا تھا۔