واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ عنقریب فوجی کارروائی شروع ہوسکتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ یوکرائن بحران کا سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔یوکرائن پر روسی حملے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کے روز وائٹ ہاوس میں صحافیوں سے کہا، “ہمارے پاس یقین کرنے کے لیے بہت سارے اسباب موجود ہیں کہ وہ (روس) کسی بناوٹی کارروائی کے ذریعہ حملے کرنے کا بہانہ تلاش کررہا ہے۔”بناوٹی حملے کے ذریعہ بالعموم کوئی ملک خود اپنے مفادات کے خلاف کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ جوابی کارروائی کو درست قرار دے سکے۔ امریکہ پچھلے کئی ہفتوں سے کہہ رہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات روسی منصوبے کا حصہ ہیں۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں کہا کہ روس اس طرح کے بناوٹی حملے کی تیاری کررہا ہے۔ انہوں نے ایسے کئی طریقوں کا ذکرکیا جو ماسکو یوکرائن پر حملے کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔روس نے تاہم اس طرح کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیا اور امریکہ پر کشیدگی میں اضافہ کرنے کا الزام لگایا۔یوکرائن کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے بتایا کہ علیحدگی پسندوں نے روس کے زیر کنٹرول یوکرائن کے عارضی مقبوضہ علاقے مشرقی لوہانسک سے ایک ٹینک کے ذریعہ گولہ باری کی۔ ایک گولہ بچوں کے ایک اسکول پر گرا جس سے دو ٹیچر زخمی ہوگئے۔ یوکرائنی فوج نے علیحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول علاقے پر جوابی فائرنگ سے انکار کیا ہے۔اس دوران برسلز میں ناٹو کے ہیڈکوارٹر میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ روس کے بہت سارے فوجی طیارے فضا میں پرواز کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے بحیرہ اسود میں ان کی تیاریوں میں تیزی دیکھی ہے۔