روس کی سینئرفوجی شخصیات کے ’’صفائے‘‘ پر زیلنسکی کی جانب سے ستائش

   

کیف : یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے پیر کے روز یوکرین کے بیرونی انٹیلی جنس ادارے کو خراجِ تحسین پیش کیا، جس نے ان کے بقول گذشتہ تین سالوں کے دوران کئی اہم روسی فوجی شخصیات کو ’’راستے سے ہٹا دیا‘‘۔ ٹیلی گرام پر دیے گئے بیان میں زیلنسکی نے کسی مخصوص واقعے کا ذکر نہیں کیا، تاہم ان کا اشارہ غالباً حال ہی میں ہلاک ہونے والے روسی جنرل یاروسلاف موسکالیک کی طرف تھا۔ زیلنسکی نے ادارے کے سربراہ اولیگ ایواشینکو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی بیرونی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ نے روسی افواج کی اعلیٰ قیادت کے افراد کی صفائی کی اطلاع دی ہے … انصاف سے کوئی فرار نہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ادارے کے سربراہ نے یوکرین میں روسی ایجنٹوں کے نیٹ ورک اور تخریب کاروں کے خلاف مزید کارروائیوں سے بھی آگاہ کیا۔ نتائج مثبت ہیں۔ آپ سب کا شکریہ! روسی حکومت نے گذشتہ جمعہ ہونے والے ایک کار بم دھماکے کا الزام یوکرین پر عائد کیا ہے۔ کارروائی میں 59 سالہ روسی جنرل یاروسلاف موسکالیک ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ ان حملوں کا تسلسل ہے جن میں روسی فوجی افسران اور جنگ کے حامی افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ کیف حکام نے اس حملے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ماسکو کی ایک عدالت نے اس حملے کے الزام میں ’’دہشت گردی‘‘ کے مقدمے میں ایک یوکرینی شہری کو حراست میں لینے کا حکم دیا۔ یوکرینی خفیہ ادارے نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لیفٹیننٹ جنرل ایگور کیریلوف کو ہلاک کر دیا ، جو ایک اعلیٰ روسی فوجی افسر تھا اور جس پر یوکرین نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگایا تھا۔ یہ واقعہ دسمبر میں ماسکو میں پیش آیا۔ زیلنسکی نے روسی صدر ولادی میر پوتین کی 8 سے 10 مئی کے دوران اعلان کردہ یک طرفہ جنگ بندی کو بھی ’’چالاکی‘‘ قرار دیا۔ یہ جنگ بندی دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی پر فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر اعلان کی گئی ہے۔زیلنسکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی وجہ سے سب سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 8 مئی تک انتظار کریں تاکہ جنگ بندی ہو … صرف پوتین کی فوجی پریڈ کے لیے سکون فراہم کرنے کی خاطر … مگر ہم انسانی جانوں کی قدر کرتے ہیں، پریڈ کی نہیں۔