روس کی چھاتہ بردار فوج کا خارکیف میں دفاترپولیس پر حملہ یوکرین ۔ جنگ کا ساتواں روز

,

   

کیف: یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ روسی چھاتہ بردار فوج خارکیف میں اتر گئی ہے اور اس کے بعد سے شہر کی سڑکوں پر جھڑپیں ہو رہی ہیں۔یوکرین کی فوج نے سوشل میڈیا ایپ ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہاکہ حملہ آور اور یوکرینیوں کے درمیان سڑکوں پر لڑائی ہو رہی ہے۔یوکرین کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں جنگ تیز ہو گئی ہے۔روسی فوج شہر کے رہائشی علاقوں اور سینٹرل اسکوائر پر شیلنگ کر رہی ہے۔ یوکرین کے وزیر داخلہ کے مشیر انٹن گیراشچینکو نے بتایا کہ چہارشنبہ کے روز خارکیف میں فضائی حملے کے نتیجے میں ایک فلائٹ اسکول کے بیرکوں میں آگ لگ گئی۔ ٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عملاً خارکیف میں ایسا کوئی علاقہ باقی نہیں بچا ہے جہاں توپ کے گولے نہ گرے ہوں۔خارکیف کی آبادی تقریباً چودہ لاکھ ہے اور یہ روسی سرحد کے قریب واقع ہے۔ گزشتہ ہفتے جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا، یہ شہر اسی وقت سے روسی فوجیوں کے نشانے پر ہے۔مشرقی یوکرین میں موجود ڈی ڈبلیو کے نامہ نگار متھائس بولینگر نے بتایا کہ خارکیف، دارالحکومت کییف اور جنوبی شہر خیرسون پر مسلسل حملے ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتا یا کہ روسی فوج خیرسون قصبے میں موجود ہے۔یہ روسی فوج کے کنٹرول میں جانے والا یوکرین کا غالباً پہلا بڑا شہرہوگا۔ حالانکہ لڑائی چل رہی ہے اور ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔بولینگرنے مزید کہا کہ ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ روسی فوج کا جو بہت بڑا قافلہ کیف کی جانب پیش قدمی کررہا ہے اس کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ فوج کے قافلے کچھ وقت سے کھڑے ہیں۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ وہ وہاں کب تک کھڑے رہیں گے کیونکہ اگر وہ زیادہ وقت تک وہیں کھڑے رہے تو وہ اپنے ساتھ جو ایندھن اور خوراک لے کر آئے ہیں وہ ختم ہوجائے گا۔یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ماسکو نے جمعرات کے روز جب سے یوکرین پر حملہ کیا ہے اس کے بعد سے اب تک تقریباً 6000 روسی فوجی مارے جا چکے ہیں۔زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس بموں اور فضائی حملوں کے باوجود ان کا ملک چھین نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیف کے بارے میں ایک چیز نہیں جانتے، ہماری تاریخ کے بارے میں۔لیکن انہوں نے ہماری تاریخ کو ختم کر دینے کا حکم دیا ہے، ہمارے ملک کو مٹادینے کا، ہم سب کو ختم کردینے کا۔زیلنسکی نے کیف کے ٹی وی ٹاور پر، روسی میزائل حملوں کے بعد دنیا بھر کے یہودیوں سے اپیل کی کہ وہ روسی فوجی کارروائی کے خلاف آواز بلند کریں۔یہ ٹی وی ٹاور اسی جگہ واقع ہے جہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن فوج نے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا۔ زیلنسکی نے کہاکہ آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ اسی لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ دنیا بھر کے لاکھوں یہودیوں کو اب خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ نازی ازم کوخاموشی کی وجہ سے تقویت ملی۔اس لیے شہریوں کی ہلاکت پر آواز اٹھائیں، یوکرینیوں کے قاتلوں کے بارے میں آواز بلند کریںیوکرین جنگ کا ساتواں روز: روس کا خارکیف میں پولیس کے دفتر پر حملہیوکرین کی وزارتِ دفاع نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں خارکیف میں ایک سرکاری عمارت کی تباہی کے مناظر ہیں۔ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ روس نے میزائل کے ذریعے نیشنل پولیس بلڈنگ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔روس نے یوکرین کے جنوب میں ایک شہر پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔روس کے سرکاری خبر رساں ادارے نے کہا ہے کہ روس کی فورسز نے جنوبی شہر خرسن پر قبضہ کر لیا ہے۔روس کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔وہیں یوکرین پر حملے کے بعد روس کی کرنسی روبل کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایک ڈالر کے مقابلے میں روبل سو سے بھی نیچے چلا گیا ہے۔دو مارچ کو روبل کی قدر میں مزید چار فی صد کم ہوئی جس سے ایک ڈالر مقابلے میں روبل کی قدر 105.2 ہو گئی ہے۔دوسری جانب ایک یورو 117.9 روبل کا ہو گیا ہے۔روس کا سب سے بڑا ماسکو اسٹاک ایکسچینج چہارشنبہ کو مسلسل تیسرے روز بھی بند رہے گا۔
روس میں حکام نے بین الاقوامی پابندیاں لگنے کے بعد پیر کو اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ بند کر دی تھی۔
روس کے مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ چہارشنبہ کو محدود پیمانے پر آپریشنز کی اجازت دی جا سکتی ہے۔برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے روس کے یوکرین پر حملے کے حوالے سے خفیہ اداروں کی نئی رپورٹ جاری کی ہے۔وزارتِ دفاع کی جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ روس نے یوکرین کے جنوب میں بھی فوج اتار دی ہے البتہ اب تک ماسکو کو زیادہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔روس نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں یوکرین کے شہروں خارکیف، کیف، ماریوپول اور چرنی ہو کو فضائی حملوں اور گولہ باری میں نشانہ بنایا ہے۔