روس کی یورپ کو گیس سپلائی بند کرنے کی دھمکی

   

ماسکو: روس کرنسی روبل میں گیس کی ادائیگی کے لیے آج جمعے تک کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔ تاہم جرمنی نے اسے روس کی جانب سے ‘بلیک میل’ قرار دیتے ہوئے یورو یا پھر ڈالر میں ادائیگی پر اصرار کیا ہے۔ ماسکو نے روسی کرنسی روبل میں گیس کی ادائیگیوں کے لیے یکم اپریل جمعے تک کی آخری تاریخ مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا جس سے بعض ممالک کو گیس کی سپلائی بند ہونے کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعرات کے روز ایک ایسے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں، جس میں کہا گیا تھا کہ خریداروں کو روبل میں ادائیگیاں کرنی ہوں گی۔ ماسکو نے اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے بھی دھمکی دی تھی اور اب وقت مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔یوکرین پر روسی حملے کے سبب مغربی ممالک نے اس پر جو پابندیاں عائد کی ہیں، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ماسکو ایک توانائی برآمد کر نے والے ملک کی حیثیت سے اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔یوروپی یونین کے ممالک نے روس کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی ہیں، تاہم روسی گیس پر انحصار کی وجہ سے توانائی کو پابندیوں سے مستثنی رکھا گیا ہے۔روس کے صدر پوٹن نے کہا، ”اگر اس
طرح سے ادائیگیاں نہیں کی جاتی ہیں، تو ہم اسے اپنے خریداروں کی جانب سے ذمہ داریوں کی خلاف ورزی تصور کریں گے۔” اس کے بعد روس موجودہ معاہدوں پر عمل کو روک دے گا۔پوٹن نے مزید کہاکہ انہیں روسی بینکوں میں روبل اکاؤنٹس کھولنے چاہییں۔ انہیں کھاتوں سے کل (جمعہ) سے گیس کی فراہمی کے لیے ادائیگیاں ہونی چاہیں۔”گزشتہ ہفتے روسی صدر نے کہا تھا کہ اس طرز کی ادائیگیوں پر عمل کرنا، یورپی یونین میں شامل ممالک سمیت، ’’غیر دوستانہ‘‘ ممالک پر واجب ہوں گی۔روسی وزارت خارجہ کے سینیئر اہلکار نکولائی کوبرینٹس نے سرکاری خبر رساں ایجنسی آر آئی اے کو بتایا کہ یورپی یونین نے (پابندیوں کے) جو اقدامات کیے ہیں اس کا جواب تو دیا ہی جائے گا…برسلز کی جانب سے عائد کی گئی غیر ذمہ دارانہ پابندیاں پہلے ہی عام یورپی باشندوں کی روزمرہ کی زندگیوں کو منفی طور پر متاثر کر رہی ہیں۔جرمنی نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ موجودہ معاہدوں کے مطابق یورو یا پھر ڈالر میں ادائیگی کرے گا۔