ماسکو، 18 جولائی (یو این آئی) روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری معاہدہ اس سال جنوری سے نافذ العمل ہے ۔ انہوں نے یہ معلومات روسی میڈیا اسپوتنک کو دی۔اس معاہدہ پر عمل درآمد کی تاریخ اور ایران کے داخلی طریقۂ کار کے مکمل ہونے کی جانکاری روس کو دئیے جانے سے متعلق سوال پر مسٹر جلالی نے کہا ، ‘‘یہ معاہدہ پہلے ہی واجب التعمیل ہے ۔’ ’اس بیس سالہ معاہدہ میں دفاع، انسداد دہشت گردی، توانائی، مالیات، ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی،پُرامن ایٹمی توانائی اور علاقائی سلامتی جیسے اہم شعبوں میں جامع تعاون کا ذکر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کشیدگی کے درمیان یہ عزم دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے ۔ اس معاہدہ کی دفعات فوجی تعاون کو مضبوط بنانے ، علاقائی استحکام کو فروغ دینے ، خاص طور پر وسطی ایشیا اور کاکیشیا کے پہاڑی علاقے میں، علاقائی پابندیوں کو روکنے اور دو طرفہ تجارت کو بڑھانے پر مرکوز ہیں۔قابل ذکر ہے کہ 17 جنوری کو مسٹر پوتن نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے یہاں ملاقات کی اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری معاہدہ پر دستخط کیے تھے ۔