روس یوکرائن پرحملہ کرسکتا ہے، بائیڈن کی پیش قیاسی

,

   

سرحدوں کے آس پاس تقریباً ایک لاکھ روسی فوجی تعینات، یوکرائین میں دہشت کا ماحول

واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن نے چہارشنبہ کے روز پیش گوئی کی کہ ان کے خیال میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن یوکرائن کے خلاف ’’پیشقدمی کریں گے۔‘‘ تاہم شاید وہ ایک بڑے پیمانے کی جنگ بھی نہیں چاہتے ہیں۔ایک نیوز کانفرنس کے دوران جب ان سے روسی حملے کے خطرے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، ”میرا اندازہ ہے کہ وہ آگے بڑھیں گے، انہیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہے۔” تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ روسی رہنما کو مغرب کو ”آزمائش” میں ڈالنے کے لیے ”سنگین اور بڑی قیمت” بھی ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت یوکرائن کی سرحدوں کے آس پاس تقریباً ایک لاکھ روسی فوجی تعینات ہیں۔ جسکی وجہ سے یوکرائن میںخوف کا ماحول ہے۔ تاہم ماسکو یوکرائن پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی سے انکار کرتا ہے، البتہ اس کی فوج اس کے لیے تیار کھڑی ہے۔صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اگر پوٹن نے اپنی فوجیں سرحد کے اس پار بھیجیں تو امریکی ڈالر میں اس کی مالیاتی منتقلی کو محدود کرنے سمیت روس پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک اس بات پر پوری طرح سے متفق نہیں ہیں کہ اگر کم پیمانے کی خلاف ورزی ہوئی تو اصل میں رد عمل کیا ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا، ”اگر یہ چھوٹے پیمانے کی در اندازی ہے تو ایک الگ بات ہے، اس پر ہم میں اختلافات ہو سکتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ لیکن اگر وہ حقیقت میں وہی کرتے ہیں جو وہ سرحد پر جمع افواج کے ساتھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اگر انہوں نے یوکرائن پر مزید حملے کیے، تو یہ روس کے لیے تباہی کا باعث ہو گا۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پھر ہر چیز تبدیل ہو جائے گی، ”تاہم یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کرتے کیا ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم نیٹو میں بھی سب کو ایک ہی صفحے پر رکھیں۔ میں اسی کام میں بہت زیادہ وقت صرف کر رہا ہوں، اور اس میں کچھ اختلافات بھی ہیں،”امریکی صدر جو بائیڈن نے جب پریس کانفرنس کے دوران ممکنہ روسی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ شاید روس بڑے پیمانے کی جنگ نہیں چاہتا تو اس پر کچھ نامہ نگاروں نے مسٹر بائیڈن سے سوال کیا کہ کیا ان کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ امریکا یوکرائن میں ایک مختصر سی مداخلت کی اجازت دے دیگا۔