نئی دہلی: سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے روس۔ یوکرین جنگ کے ماحول میں ہندوستان کے کردار کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند نے دونوں ممالک سے امن کی اپیل کے ساتھ اپنے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے درست کام کیا ہے ۔ ڈاکٹر سنگھ نے ایک انگریزی روزنامہ کو انٹرویو میں کہا کہ جب دو یا دو سے زیادہ ممالک کے درمیان کشیدگی ہوتی ہے تو اکثر دوسرے ممالک پر کسی ایک ملک کا انتخاب کرنے کا دباؤ ہوتا ہے ۔ یہ صورت حال بہت مشکل ہے لیکن ہندوستان نے اس پیچیدہ صورتحال میں اپنی خودمختاری کی حفاظت کی ہے اور یہ بطور وزیر اعظم نریندر مودی کا صحیح کردار رہا۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ میرے خیال میں ہندوستان نے امن کی اپیل کرکے اور اپنی خود مختاری اور اقتصادی مفادات کو اولیت دے کر صحیح کام کیا ہے۔ روس ۔یوکرین تنازعہ اور چین اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے عالمی نظام میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ اور اس ماحول میں بھارت نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ مشکل ماحول کے درمیان قومی مفاد میں مودی کے کئے گئے اقدامات کی وجہ سے عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ بڑھی ہے۔ روس یوکرین جنگ کے تناظر میں نئے عالمی نظام کو چلانے میں ہندوستان کا کردار اہم ہے اور ہندوستان نے اس تنازعہ کے درمیان اپنے مفادات کو اہمیت دیتے ہوئے امن کی اپیل کرکے صحیح کام کیا ہے ۔ سابق وزیراعظم نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی نئی قسم کی تجارتی پابندیوں کی بات ہو رہی ہے ۔ اس سے موجودہ نظام میں تبدیلی آئے گی اور دنیا کی سپلائی چین میں ہندوستان کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ ان تمام حالات کے دور میں ہندوستان کا معاشی مفاد اسی میں ہے کہ وہ کسی کے جھگڑوں میں نہ الجھے اور دوسرے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کا توازن برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھے ۔ ہندوستان میں G-20 پر انہوں نے کہاکہ میں خوش ہوں کہ ہندوستان کو روٹیشن پالیسی کے تحت G-20 کی سربراہی کا موقع ملا ہے۔
اور مجھے اس سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ میں ہندوستان کو G-20 کی صدارت کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ہندوستان کے سرکاری ڈھانچے کا ایک اہم حصہ رہی ہے ، لیکن اب خارجہ پالیسی ملکی سیاست میں پہلے سے زیادہ اہم اور اہم ہوگئی ہے ۔ 2047 تک ملک کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے کے مسٹر مودی کے دعوے پر ڈاکٹر سنگھ نے کہاکہ یہ یقینی ہے کہ آنے والے سالوں میں ہندوستان عالمی معیشت کا پاور ہاؤس بنے گا۔ بدلتے ہوئے عالمی ترتیب میں ہندوستان ایک منفرد اقتصادی موقع کی چوٹی پر کھڑا ہے ۔ ہندوستان کے پاس ایک بڑی منڈی ہے اور ہم قدرتی وسائل کے ذریعہ پیداوار اور مینوفیکچرنگ کو آگے لے کر آنے والی دہائیوں میں ہندوستان کو عالمی معیشت کا ایک بڑا پاور ہاؤس بنا سکتے ہیں۔ ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر سابق وزیر اعظم نے کہاکہ “مجھے ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں فکروں سے زیادہ امیدیں ہیں، لیکن میری امید کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہندوستانی معاشرے میں ماحول کتنا ہم آہنگ ہوگا کیونکہ ترقی کی بنیاد میں ماحول اہم ہوتا ہے ۔ ہندوستان دنیا میں کہاں کھڑا ہے اور اسے ملکی سیاست میں بھی ایشو بننا چاہیے ، لیکن سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کو ذاتی سیاست یا پارٹی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔