روس ۔یوکرین کشیدگی، تنازعہ کی اصل وجہ کیا ہے؟

   

ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعرات کو مقامی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں یوکرین میں ملٹری آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے دیگر ممالک کو خبردار کیا کہ انہوں نے اگر اس معاملے میں مداخلت کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔روس کے حالیہ اقدام کے بعد سلامتی کا یہ بحران مزید سنگین ہوگیا ہے البتہ یوکرین اور روس کے درمیان تنازعات کی تاریخ طویل ہے اور حالیہ بحران کی جڑیں بھی اسی تاریخی تناظر میں پیوست ہیں۔دراصل سوویت یونین میں شامل ہونے سے قبل یوکرین روسی سلطنت کا حصہ تھا۔ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمہ ہوا تو یوکرین سمیت 14 آزاد ریاستیں قائم ہوئیں۔لیکن یوکرین کو علیحدہ ملک کے طور پر تسلیم کرنا کئی تاریخی اسباب سے روس کے لیے مشکل رہا ہے۔روس اور یوکرین کے تعلق کی تاریخ نویں صدی سے شروع ہوتی ہے جب کیف قدیم روسی سلطنت کا دار الحکومت بنا تھا اور سن988 میں شہزادہ ولادیمر نے روس کو آرتھوڈکس مسیحیت سے متعارف کرایا تھا۔آج یہی شہر یوکرین کا دارالحکومت ہے۔سن 1654 میں روس اور یوکرین ایک معاہدے کے تحت زارِ روس کی سلطنت میں متحد ہوگئے تھے اور بعد میں یہ سوویت یونین میں بھی ساتھ رہے۔اٹلانٹک کونسل کے لیے اپنے ایک مضمون میں سابق سفارت کار بوہڈان وٹوٹسکی نے لکھا تھا کہ سوویت یونین میں شامل ہونے سے قبل روسی سلطنت کے دور ہی سے یوکرین کی علیحدہ شناخت برقرار رکھنے کی کوششوں کو دبایا گیا۔اس کے لیے یوکرین کی زبان پر بھی کڑی پابندیاں عائد کی گئیں۔ان کے مطابق 1917 کے انقلاب کے بعد بھی بالشویک فوجوں نے یوکرین پر حملے جاری رکھے اور یوکرین کے علیحدہ ملک بننے والی کسی آواز کو سر نہیں اٹھانے دیا۔وٹوٹسکی کے بقول یوکرین کی علیحدہ حیثیت کو تسلیم نہ کرنا وہ واحد نکتہ تھا جس پر روس میں انقلاب لانے والے اور ان کی مخالف روسی فوج دونوں یکساں مؤقف رکھتے تھے۔