بخاریسٹ: رومانیہ کے وزیر اعظم مارسیل سیولاکو نے پیر کو سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (پی ایس ڈی) کے ہیڈکوارٹر میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رومانیہ کی حکمران پی ایس ڈی نے حکمران اتحاد سے علیحدگی اختیار کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے ۔اتوار کو رومانیہ کے صدارتی انتخابات کے پہلے دور کی دوبارہ ووٹنگ کے بعد آئے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے ، سیولاکو نے کہا کہ حکمران اتحاد کے دو مقاصد میں سے ایک حاصل نہیں ہو سکا، جس کا مطلب ہے کہ حکمران اتحاد کے پاس کم از کم اپنی موجودہ ساخت میں قانونی حیثیت کا فقدان ہے ۔ حکمران اتحاد کی نمائندگی کرنے والے صدارتی امیدوار کرین اینٹونیسکو 18 مئی کو ہونے والی ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں جگہ بنانے میں ناکام رہے۔ سیولاکو کے مطابق، جب تک تبدیلی کا عمل جاری ہے ، پی ایس ڈی وزراء عارضی طور پر اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے ، کیونکہ عبوری حکومتی انتظامات قائم کرنے کے لیے اتحادی شراکت داروں نیشنل لبرل پارٹی (پی این ایل) اور رومانیہ میں ڈیموکریٹک الائنس آف ہنگریز (یو ڈی ایم آر) کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی۔عبوری صدر ایلی بولوزان نے وزیراعظم سیولاکو کا استعفیٰ باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے ۔ صدارتی انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ منگل کو عبوری وزیر اعظم کا تقرر کیا جائے گا۔عبوری کابینہ 45 دن تک اپنے عہدے پر رہ سکتی ہے ، اس دوران نئی حکومت کی تشکیل ضروری ہے ۔ اس مدت کے دوران، عبوری کابینہ کو صرف اس وقت تک اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ معمول کے عوامی امور کے بارے میں فیصلے لے جب تک کہ نو منتخب حکومت کے ارکان حلف نہیں لے لیتے ہیں۔