روپیہ کی قدر میں گراوٹ کے منفی اثرات

   

Ferty9 Clinic

حصص بازار شدید متاثر ، سرمایہ کاروں کو 7 لاکھ کروڑ کے نقصان کا سامنا
حیدرآباد۔8۔ڈسمبر ۔(سیاست نیوز) روپیہ کی قدر میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے منفی اثرات اب ملک کی معیشت پر نظر آنے لگے ہیں اور اس کا اثر حصص بازار پر ہونے کے نتیجہ میں ہفتہ کے آغاز کے پہلے دن یعنی دوشنبہ کو حصص بازار میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ہندستان میں حصص بازار کے آغاز کے ساتھ ہی 830پوائنٹس کی گراوٹ کے نتیجہ میں سرمایہ کاروں کو 7لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے جبکہ بازار بند ہونے تک بھی کوئی نمایاں بہتری ریکارڈ نہ کئے جانے کے سبب سرمایہ کاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حصص بازار میں صبح کے اوقات میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ مجموعی طور پر 1فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اور بازار بند ہونے تک بھی مجموعی طور پر سینسیکس میں 610 پوائنٹس کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ ہندستانی روپئے کی قدر میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے نتیجہ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے سبب بازار میں منفی رجحان کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور یہ سلسلہ روپئے کے استحکام تک جاری رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا نے لگا ہے۔ دوشنبہ کو بازار کے کھلنے پر ڈالر کی قیمت 90.11 روپئے ریکارڈ کی گئی جبکہ دو یوم قبل روپئے کی قدر میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ اب تک کی سب سے زیادہ ہوچکی تھی اور ڈالر کی قیمت 90.46 تک پہنچ چکی تھی۔ ماہرین معاشیات بالخصوص جو روپئے کی قدرمیں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کو ہندستانی معیشت کے لئے مثبت قرار دیتے ہوئے بھرم پھیلا رہے ہیں وہ بھرم آج BSE میں ٹوٹ چکا ہے جس کے نتیجہ میں عام سرمایہ کاروں کو 7لاکھ کروڑ کے سرمایہ سے محروم ہونا پڑا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ بازار میں جو گراوٹ ریکارڈ کی گئی اسے بہتر بنانے کے لئے اگر فوری طور پر اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ملک بھر میں مندی کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور مندی کے دور میں اگر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثرقیمتوں پر پڑنے لگ جائے گی اور آسمان کو چھونے والی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے راست اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں۔3