روہنگیا انسانی بحران پرعالمی برادری موثر رول ادا کرے

,

   

Ferty9 Clinic

وزیر اعظم بنگلہ دیش حسینہ واجد کی اپیل ۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب

نیویارک :بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس میں بین الاقوامی برادری سے روہنگیا معاملے پر موثر رول ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ شیخ حسینہ واجد نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے آن لائن خطاب کیا، جس میں انھوں نے کئی پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔تین سال سے زیادہ عرصے تک اپنے ملک میں روہنگیا مہاجرین کی موجودگی کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے شیخ حسینہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ حل تلاش کرنے میں زیادہ موثر کردار ادا کرے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 75 ویں اجلاس سے اپنے خطاب میں حسینہ نے کہا ہیکہ ‘بنگلہ دیش نے میانمار سے جبری طور پر بے گھر ہونے والے 1.1 ملین سے زیادہ شہریوں کو عارضی پناہ گاہ فراہم کی ہے’۔انھوں نے کہا ہے کہ ‘تین برس سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ افسوس کہ ایک بھی روہنگیا کو وطن واپس نہیں لایا جا سکا۔ انہوں نے عالمی برادری سے درخواست کی ہے کہ وہ اس بحران کے حل کے لئے زیادہ موثر کردار ادا کرے’۔انہوں نے کورونا وائرس (کووڈ 19) کے پھیلنے سے درپیش چیلنجز کے بارے میں مزید بات کی اور عالمی برادری سے اجتماعی طور پر وائرس کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی۔شیخ حسینہ نے کہا ہیکہ ‘جس طرح دوسری عالمی جنگ نے اقوام متحدہ کے قیام کے ذریعے ممالک کو باہمی تعاون کے لئے اکٹھا ہونے کے مواقع پیدا کئے، اسی طرح اس وبائی مرض نے صحیح قیادت کی رہنمائی میں اجتماعی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ‘وبائی مرض ایک پوری یاد دہانی ہے کہ ہم کس طرح اس کا مقابلہ کریں اور جب تک ہر ایک کو محفوظ نہیں کیا جاتا ہے کوئی بھی محفوظ نہیں ہو گا۔بنگلہ دیش کی وزیر اعظم نے تکنیکی جانکاری اور دیگر امور کا بھی ذکر کیا تاکہ ان کا ملک بڑے پیمانے پر ویکسین کی تیاری کر سکے۔