رکاوٹوں کے باوجود یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ ممکن : بلنکن

   

Ferty9 Clinic

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جمعرات کے روز اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اب بھی ممکن ہے تاہم بہت سے مشکل مسائل کا سامنا ہے اور ان کو حل کیے بغیر قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پر کوئی پیشرفت ممکن نہیں ہے۔امریکہ، مصر اور اسرائیل کے انٹیلی جنس سربراہان اور قطری وزیراعظم کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کیلئے ہونے والی ملاقات منگل کے روز ںغیر کسی پیشرفت اور نتیجہ کے ختم ہوگئی۔کیا جنگ بندی کا معاہدہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان جو کہ 10 مارچ سے شروع ہو رہا ہے سے قبل ممکن ہے’ کے سوال پر بلنکن کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے ممکنہ معاہدے پر حماس کے پہلے رد عمل میں کچھ واضح ‘نان اسٹاٹرز’ شامل تھے تاہم حماس نے جنگ بندی کے معاہدے پر کام کرنے کی پیشکش کی تھی۔’بلنکن نے البانیہ کے دورے کے دوران پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم اب قطری، مصری اور اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ مل کر معاہدہ پر کام کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ ممکن ہے۔بلنکن نے مزید کہا کہ ‘ہمیں کچھ بہت مشکل مسائل درپیش ہیں جن کے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے البتہ ہم معاہدہ کو آگے بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے پر عزم ہیں۔’جنگی بندی مذاکرات سے واقف ذرائع کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے حماس کی فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی تجاویز کو مسترد کردیا ہے۔