رکن پارلیمنٹ کرشنم راجو کی سپریم کورٹ میں درخواست آندھراپردیش حکومت فریقین کی فہرست سے خارج

   

حیدرآباد: سپریم کورٹ سے ضمانت کے حصول کے بعد وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے باغی رکن پارلیمنٹ کرشنم راجو نے حیرت انگیز طور پر اقدام کیا جس میں سپریم کورٹ میں درخواست کی گئی کہ فریقین کی حیثیت سے آندھراپردیش حکومت اور سرکاری اداروں کو سرکاری اداروں کو حذف کیا جائے۔ سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے یہ درخواست داخل کی جس کی مخالفت آندھراپردیش حکومت کے وکیل دیشانت داوے نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ریاستی حکومت سے متعلق ہے ، پھر کس طرح حکومت کو مقدمہ سے حذف کیا جاسکتا ہے ۔ جسٹس ونیت سرن اور جسٹس بی آر گوائی پر مشتمل بنچ نے رکن پارلیمنٹ کی اپیل کو قبول کرتے ہوئے حکومت آندھراپردیش اور اس کے دیگر اداروں اور مقدمہ کے فریق کی فہرست سے خارج کردیا ۔ کرشنم راجو کے وکیل نے کہا کہ اب جبکہ آندھراپردیش حکومت مقدمہ میں فریق نہیں ہے ، لہذا داوے کو مقدمہ میں بحث کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ رکن پارلیمنٹ نے 14 مئی کو ان کی گرفتاری کے معاملہ کی سی بی آئی سے تحقیقات کی درخواست کی ۔ انہوں نے فریقین میں سی بی آئی کا نام شامل کرنے کی درخواست کی ہے۔