حکومت کے احکامات جاری، تین ماہ بعد اقساط میں وصولی کی اجازت
حیدرآباد 23 اپریل(سیاست نیوز) کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں پریشان حال کرایہ داروں کو راحت پہنچانے حکومت نے آج احکامات جاری کئے۔ رہائشی مکانات کے مالکین کو ہدایت دی گئی کہ وہ مارچ سے تین ماہ کا کرایہ طلب نہ کریں اور تین ماہ بعد یہ رقم اقساط میں حاصل کی جائے۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے آج جی او آر ٹی 184 جاری کیا جسکے تحت رہائشی مکانات کے کرایہ داروں کو تین ماہ کی راحت دی گئی ہے۔ یہ راحت تجارتی اغراض کیلئے استعمال ہونے والی عمارتوں کے کرایہ داروں کیلئے نہیں ہے۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں آبادی کی خاصی تعداد کرایہ کے گھروں میں رہتی ہے اور مکانات کا ماہانہ کرایہ معقول ہے۔ بعض کیسس میں ماہانہ انکم کا 40 فیصد کرایہ میں جاتا ہے۔ ایسے کرایہ دار لاک ڈاؤن کی صورتحال کے نتیجہ میں بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ اگر مکان دار کی جانب سے کرایہ کی مانگ کی گئی تو کرایہ داروں پر برا اثر پڑیگا ۔ کرایہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں اگر مالک مکان تخلیہ کی ہدایت دیں تو کرایہ دار لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں دوسرے مقام منتقلی سے قاصر رہے گا۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ کرایہ داروں کے تخلیہ اور ان کی سرگرمیوں کے نتیجہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے حکومت کے اقدامات متاثر ہوسکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں کرایہ داروں کو اپنے مکانات میں برقرار رکھنے اور انہیں کسی ہراسانی سے بچانے راحت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 اور ای ڈی ایکٹ 1897 ء کی مختلف دفعات کے تحت حکومت ریاست میں مالکین مکانات کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ رہائشی مقاصد کیلئے موجود عمارتوں کے کرایہ داروں سے تین ماہ کا کرایہ وصول نہ کریں۔ مارچ سے اس فیصلہ کا اطلاق ہوگا۔ جی او میں مزید کہا گیا کہ تین ماہ بعدکرایہ کی رقم اقساط میں وصول کی جاسکتی ہے ۔
تمام ضلع کلکٹرس ، کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور دیگر اضلاع کے میونسپل کمشنرس کو ان احکامات پر عمل آوری کی ہدایت دی گئی ہے ۔ حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں ازروئے قانون سزا کے مستحق ہونگے۔ چیف سکریٹری نے تمام ضلع کلکٹرس اور میونسپل کمشنرس کو احکامات پر سختی سے عمل آوری کی ہدایت دی ہے۔