ریاستوں ، مرکزی علاقوں میں سرکاری نوکریوں کیلئے انٹرویو کا سسٹم ختم

,

   

Ferty9 Clinic

مرکزی حکومت میں گروپ بی ( نان گزیٹیڈ ) اور گروپ سی کی جائیدادوں کیلئے ترک طریقہ کار کے مطابق عمل ، جتیندر سنگھ کا بیان
نئی دہلی : مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ سرکاری نوکریوں میں بھرتی کے لیے انٹرویو کا طریقہ کار ابھی تک 23 ریاستوں اور 8 مرکزی علاقوں میں ختم کیا جاچکا ہے ۔ پرسونل منسٹری کے جاری کردہ بیان کے مطابق جیتندر نے کہا کہ یہ عمل 2016 سے مرکزی حکومت میں گروپ بی ( نان گزیٹیڈ ) اور گروپ سی کی جائیدادوں کے لیے انٹرویو ختم کردینے کے رجحان کی مطابقت میں ہے ۔ جیتندر نے یاد دلایا کہ 2015 میں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے انٹرویو کا سسٹم ختم کرنے اور جاب سلیکشن کو مکمل طور پر تحریری امتحان پر مبنی بنانے کی تجویز رکھی تھی کیوں کہ جب کبھی کسی امیدوار کو انٹرویو کے لیے طلب کیا جاتا ہے ، تب اس کی پوری فیملی اندیشے اور اضطراب سے دوچار ہوجاتی ہے ۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے مشورے پر فوری حرکت میں آتے ہوئے ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ نے اندرون 3 ماہ بڑی مہم چلائی اور مرکزی حکومت نے رکروٹمنٹ کے لیے انٹرویو کا سسٹم یکم جنوری 2016 سے ختم کرنے کا اعلان کردیا ۔ بعض ریاستوں جیسے مہاراشٹرا اور گجرات میں اس قاعدہ پر فوری عمل درآمد کیا جب کہ دیگر ریاستیں نوکریوں کے لیے انٹرویو کے انعقاد کو ختم کرنے میں پس و پیش کرتی نظر آئیں ۔ جیتندر سنگھ نے اطمینان کا اظہار کیا کہ ترغیب اور بار بار یاد دہانی کے بعد کئی ریاستی حکومتوں نے بھی اس کی تعمیل کی اور آج تمام 8 مرکزی علاقوں بشمول جموں و کشمیر اور لداخ ، نیز ملک کی 28 کے منجملہ 23 ریاستوں میں انٹرویو کا طریقہ کار باقی نہیں رہا ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں انٹرویو میں دئیے جانے والے نشانات کے تعلق سے شکایات اور الزامات سامنے آئے اور یہ بھی دعوے کیے گئے کہ بعض پسندیدہ امیدوار کے لیے قواعد میں الٹ پھیر کی گئی ۔ انٹرویو کو ختم کردینے اور صرف تحریری امتحانات کے نشانات کو سلیکشن کے لیے میرٹ کے طور پر ملحوظ رکھنا ہی تمام امیدواروں کے لیے مساوی مسابقت کا موقع فراہم کرنا ہے ۔