ریاستوں کو اراضی وسائل کے استعمال کیلئے کھادی کمیشن کا ماڈل اپنانے کا مشورہ

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی: نیتی آیوگ نے اراضی وسائل کے بہتر استعمال کے لئے کھادی اینڈ ویلج انڈسٹری کمیشن کے اس ماڈل پر عمل کرنے کو کہاہے جس میں کسانوں کی خالی جگہ پر بانس اور صندل کی لکڑی کی کاشت کا التزام کیا گیا ہے ۔کھادی کمیشن کے چیئرمین وجے کمار سکسینہ نے پیر کے روز یہاں بتایا کہ نیتی آیوگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امیتابھ کانت نے 4 جولائی کو تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ جنگل اور زراعتی زمین پر بانس اور صندل کی لکڑی کی کاشت کرنے کرنے کے لیے کسانوں کو ترغیب دی جانی چاہئے اور ان کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے کھادی کمیشن کے پروگرام کو اختیار کیا جاسکتا ہے جس میں کاشتکاروں کو صندل اور بانس کی کاشت کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ اس میں بانس اگربتی کی ڈنڈیوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے اور روایتی طور پر صندل کی لکڑی بہت سی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے ۔ کھادی کمیشن نے کاشتکاروں کو صندل کی لکڑی اور بانس کی کاشت کیلئے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی ہے اور انہیں مارکیٹ تک رسائی فراہم کی ہے ۔ کھادی کمیشن کے اس اقدام سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ درآمدات پر انحصار بھی کم ہوگا۔