ریاستوں کو نظر انداز نہیں کیا گیا، اپوزیشن کا الزام افسوسناک: نرملا سیتا رمن

   

یوپی اے حکومت کے بجٹ میں بھی 26 ریاستوں کا ذکر نہیں تھا، وزیر فینانس کا جواز۔ کوویڈ کے بعد معیشت کی تیز ترقی کا دعویٰ

نئی دہلی : وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے منگل کو کہا کہ بجٹ میں تمام طبقات اور تمام خطوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے مجموعی ترقی کو اہمیت دی گئی ہے ، لیکن بدقسمتی سے اپوزیشن جماعتوں کے لوگ کنفیوژن پھیلا رہے ہیں اور ریاستوں کو نظرانداز کرنے کا الزام لگا کر سیاست کر رہے ہیں۔ لوک سبھا میں بجٹ 2024-25 پر چار روزہ بحث کا جواب دیتے ہوئے سیتا رمن نے آج کہا کہ بجٹ میں تمام طبقات اور تمام شعبوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہر قسم کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے انتظامات کیے گئے ہیں۔ بجٹ اخراجات میں 48.21 لاکھ کروڑ روپے کا پروویژن ہے جو کہ پچھلے سال سے 7.3 فیصد زیادہ ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ تقریر میں کبھی کسی ریاست کا نام نہ لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس ریاست کو پیسہ نہیں دیا جارہا ہے اور اسے نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت کے دوران 2009-10 کے مکمل بجٹ میں صرف بہار اور اتر پردیش کا ذکر کیا گیا تھا اور 26 ریاستوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ مختلف ریاستوں کیلئے بجٹ میں اسکیموں کے لیے مختص کردہ فہرستوں کو گناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی بجٹ تقریر میں ریاستوں کو نظر انداز کرنے کا جھوٹ پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے انھیں بہت تکلیف ہوئی ہے ۔ سیتا رمن نے کہا کہ بجٹ میں سرمایہ خرچ 11.11 لاکھ کروڑ روپے ہے ، جو کووڈ سے پہلے کے مقابلے تین گنا ہو گیا ہے۔ کووڈ کے اثرات سے نکلنے کے بعد معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔ مؤثر سرمایہ خرچ 15 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے ، جو پچھلے سال کے نظرثانی شدہ تخمینہ سے 18 فیصد زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اور متعلقہ شعبوں کیلئے سرمایہ خرچ 1.52 لاکھ کروڑ روپے ہے ۔ تعلیم اور ہنر پر خرچ کیلئے 1.8 لاکھ کروڑ روپے کا انتظام ہے ، جب کہ خواتین اور بچوں کی ترقی کیلئے 3.27 لاکھ کروڑ روپے کا انتظام ہے ۔ دیہی ترقی کیلئے 2.66 لاکھ کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے ۔ صحت کیلئے 1.46 لاکھ کروڑ روپے کا انتظام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر سماجی شعبے کے بجٹ میں گزشتہ سال سے اضافہ ہوا ہے اور یہ 2013-14 کے بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کووڈ کے دوران ریونیو خسارے اور مالیاتی خسارے کا تناسب 80 فیصد تھا جو رواں مالی سال میں کم ہو کر 36 فیصد پر آ گیا ہے اور اس سے سرمائے کے اخراجات میں اضافہ اور بجٹ کے معیار کی عکاسی ہوتی ہے ۔ مالیاتی نظام صحیح راستے پر ہے ۔ ہندوستان آج دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے اور اس کیلئے ملک کا ہر وہ شخص مبارکباد کا مستحق ہے جس نے اس کیلئے سخت محنت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی مالی صورتحال آج دوبارہ پٹری پر آ گئی ہے اور اس بجٹ میں جموں و کشمیر کو پولیس کے اخراجات کیلئے 12 ہزار کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔