ریاستوں کو ٹیکس وصولیات میں باقاعدگی سے حصہ نہیں

,

   

مرکز اپنے مصارف میں مگن ،صرف بڑی کمپنیوں کی ترقی جاری : رگھورام راجن

حیدرآباد۔15ستمبر(سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے ریاستی حکومتوں کو ادا شدنی محصولات کا حصہ جاری نہیں کیا جار ہاہے اور جو محصولات وصول کئے جا رہے ہیں وہ مرکزی حکومت کی جانب سے استعمال میں لائے جارہے ہیں۔ سابق گورنر ریزرو بینک آف انڈیا و ماہر معاشیات رگھو رام راجن نے قومی چیانل کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں یہ بات کہی اور کہا کہ ہندوستان جیسے وسیع ملک میں صرف مرکزی حکومت کے ذریعہ معاشی نظام کو چلایا جانا ممکن نہیں ہے اسی لئے اب تک مرکزی حکومت کی جانب سے ٹیکس وصولیات میں سے ریاستی حکومتو ںکو حصہ کی اجرائی عمل میں لائی جاتی تھی تاکہ ریاستی حکومتوں کی معاشی حالت بہتر رہے لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے محصولات میں ریاستوں کے حصہ کے عدم اجرائی کے سبب ملک کی بیشتر تمام ریاستیں مرکز پر نگاہیں مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر رگھو رام راجن نے بتایا کہ مرکزی حکومت اپنی بڑھتی ہوئی آمدنی میں ریاستوں کے حصہ کی ادائیگی کو یقینی بناتا ہے تو ایسی صورت میں ملک کی کئی ریاستوں کی معاشی حالت بہتر ہوسکتی ہے لیکن ایسا نہ کرنے کے سبب ریاستوں کے معاشی نظام مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے خرچ کرنے کے بجائے آمدنی میں اضافہ پر توجہ دی جارہی ہے جبکہ کریڈٹ ریٹنگ کے لئے لازمی ہے کہ ضروری مد میں اخراجات کو بہتر بنایا جائے اور آمدنی میں سے خرچ کو یقینی بنایا جائے ۔ان اخراجات کے لئے کریڈٹ ریٹنگ فراہم کرنے والے اداروں کی جانب سے ضروری مدات کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے۔مالی سال 2021-22کے پہلے سہ ماہی کے دوران 20.1 فیصد جی ڈی پی کی وجہ صارفین کی قوت خرید اور مینوفیکچرنگ کے سبب ریکارڈ کی گئی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ مینوفیکچرنگ کی شرح 46.9 فیصدریکارڈ کی گئی ہے جبکہ تعمیرات کی شرح 69.3فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی معیشت بتدریج بہتری کی سمت گامزن ہے لیکن ریاستوں کو ان کے حصہ کی ائیگی کے ذریعہ مفلوج معاشی نظام کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر رگھو رام راجن نے بتایا کہ بڑی کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شئیر مارکٹ میں زبردست اچھال ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے جی ایس ٹی سے ہونے والی آمدنی میں 30فیصد اضافہ پر توجہ دہانی کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی سے ماہ اگسٹ میں آمدنی 1.12 لاکھ کروڑ ریکارڈ کی گئی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ چھوٹی اور متوسط صنعتوں کی مدد کے ذریعہ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے اقدامات کریں تاکہ قومی سطح پر معاشی بہتری کے فوائد تمام شعبوں اور طبقات کو حاصل ہوں۔