محکمہ بہبود کے بشمول تمام محکمہ جات پر خصوصی توجہ، نئے قوانین کی منظوری کا بھی امکان
حیدرآباد۔یکم ستمبر (سیاست نیوز) ریاستی اسمبلی کے بجٹ سیشن کا آغاز جاریہ ماہ کی 9تاریخ سے ہوگا اور حکومت کی جانب سے اس سیشن کے دوران ریاست کا سالانہ مکمل بجٹ پیش کیا جائے گا۔گورنر کی جانب سے آج جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آغاز 9ستمبر کو ہوگا اور اس اجلاس کے دوران ریاستی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے مکمل بجٹ کی پیشکشی عمل میں لائی جائے گی ۔ واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کے سبب ریاستی اسمبلی میں مکمل بجٹ پیش نہیں کیا گیا تھا بلکہ علی الحساب بجٹ پیش کرتے ہوئے اخراجات کو منظوری دی گئی تھی لیکن اب حکومت نے مکمل بجٹ کی پیشکشی کا فیصلہ کیا ہے۔چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گذشتہ دنوں ریاست کے تمام محکمہ جات کے اعلی عہدیداروں کے ہمراہ اجلاس کے دوران عہدیداروں کو ملک کے حالات بالخصوص معاشی انحطاط کی صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے حقیقت پر مبنی بجٹ کی تیاری کی ہدایت جاری کی تھی اور کہا جار ہاہے کہ حکومت کی جانب سے تمام محکمہ جات بالخصوص محکمہ بہبود کے بجٹ پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ ریاست میں جاری ترقیاتی پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل کے سلسلہ میں اقدامات کا فیصلہ کیا تھا جس کے سبب مجوزہ بجٹ میں ان امور کو کافی اہمیت حاصل رہنے کا امکان ہے۔ریاستی اسمبلی کے ساتھ ساتھ تلنگانہ قانون ساز کونسل کا اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا اور اسمبلی میں بجٹ کو منظوری دیئے جانے کے فوری بعد ریاستی حکومت کی جانب سے کونسل میں بھی بجٹ کو منظور کروایا جائے گا۔
بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران محکمہ ریوینیو کے نئے قانون کو منظور کروانے کے علاوہ نئے بلدی قوانین کو معمولی ترامیم کے ساتھ منظور کروانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ چیف منسٹر نے متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ ان قوانین کی منظوری کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کریں تاکہ ریاستی حکومت کی جانب سے بجٹ اجلاس کے دوران ان دونوں قوانین کی منظوری کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کیا جاسکے ۔ ریاستی حکومت نے گذشتہ اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں بلدی قوانین کو منظور کیا تھا لیکن گورنر تلنگانہ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن نے اس قانون کو منظوری دینے سے انکار کردیا تھا جس پر حکومت کی جانب سے دوبارہ آرڈیننس کی راہ اختیار کرتے ہوئے ریاست میں اس قانون کی برقراری کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اب اس قانون کو دوبارہ ایوان میں پیش کرتے ہوئے منظوری حاصل کرنی ہوگی اور حکومت بجٹ اجلاس کے دوران اس کاروائی کی تکمیل کرسکتی ہے۔توقع کی جا رہی ہے کہ تلنگانہ اسمبلی بجٹ اجلاس کے ساتھ بلدی قوانین اور ریوینیو قوانین کو منظوری دینے کے کا فیصلہ بی اے سی اجلاس میں کرے گی۔
نامزد گورنر شریمتی سوندرا راجن سے
کے سی آر کی ٹیلیفون پر بات چیت اور مبارکباد
حیدرآباد۔یکم‘ ستمبر(سیاست نیوز) چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نو نامزد کردہ گورنر تلنگانہ ڈاکٹر ٹی سوندراجن سے فون پر رابطہ قائم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ریاست تلنگانہ کے گورنر کی حیثیت سے ان کی خدمات کے لئے ریاست منتظر ہے۔چیف منسٹر نے تلنگانہ کی نو نامزد کردہ گورنر کے علاوہ ہماچل پردیش کے نو نامزد کردہ گورنر سابق مرکزی وزیر و رکن پارلیمنٹ سکندرآباد مسٹر بنڈارو دتاتریہ کو بھی مبارکباد پیش کی اور فون پر رابطہ قائم کرتے ہوئے انہیں ان کی نئی ذمہ داریوں پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
