زیادہ سے زیادہ طلباء کو درخواستیں داخل کرنے کا مشورہ دیا ۔ اوورسیز اسکالر شپس کی اجرائی کے لیے بھی اقدامات :شاہنواز قاسم
حیدرآباد۔16نومبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی اسکالر شپس کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر کا مسئلہ جلد حل ہوجائے گااور توقع ہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران تیسرے سہ ماہی کے بجٹ کی اجرائی کے ساتھ ہی کالجس کے بقایاجاتا جاری کردیئے جائیں گے۔ طلبہ ریاستی حکومت کی اسکالر شپس کے حصول کے علاوہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی اسکالرشپس کے حصول کیلئے زیادہ سے زیادہ درخواستیں داخل کریں تاکہ ریاست تلنگانہ کے زیادہ سے زیادہ طلبہ کو مرکزی حکومت کی اسکالر شپس حاصل ہوسکے۔ مرکزی حکومت نے تلنگانہ میں 63ہزار پری میٹرک طلبہ کو اسکالر شپس کی اجرائی کا نشانہ مقرر کیا ہے جبکہ 10 ہزار پوسٹ میٹرک طلبہ کو اسکالر شپ کی اجرائی کا منصوبہ ہے لیکن اگر ریاست تلنگانہ کے طلبہ کی بڑی تعداد مرکزی حکومت کی اسکالرشپس کے حصول کیلئے درخواست داخل کرتی ہے تو ایسی صورت میں مرکزی حکومت کی جانب سے اسکالرشپس کی تعداد میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ مرکزی حکومت کی اسکالر شپس کے حصول کیلئے 30نومبر درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ ہے اور 15 ڈسمبر تک ان درخواستوں کی تنقیح کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اس اعتبار سے توقع ہے کہ جنوری کے اوائل میں اسکالرشپس کی رقومات کی اجرائی عمل میں لائی جائیں گی۔ جناب شاہنواز قاسم ڈائریکٹر کمشنریٹ محکمہ اقلیتی بہبود نے اس سلسلہ میں بات چیت کے دوران بتایا کہ تلنگانہ کو جو نشانہ دیا گیا ہے وہ مکمل کرلیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود طلبہ کی جانب سے اگر مرکزی حکومت کی اسکالرشپس کے لئے درخواستیں وصول ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں ان درخواستوں کی یکسوئی کرواتے ہوئے اضافی منظوریاں حاصل کرنے کی کوشش کی جائیں گی اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مرکزی وزارت اقلیتی بہبود سے نمائندگی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں درخواستوں کو منظور کرنے کی خواہش کی جائے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے نئے شرائط اور تعلیمی اداروں اور ضلع اقلیتی عہدیداروں کو آدھار سے مربوط کرنے کے فیصلہ کے بعد کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ تمام ضلع کلکٹریٹ میں اقلیتی بہبود عہدیداروں کے آدھارکو مربوط کرنے کے اقدامات کئے جاچکے ہیں۔ جناب شاہنواز قاسم نے بتایا کہ سال گذشتہ مرکزی حکومت کی اسکالر شپس کے ادخال کے لئے 13ہزار897 تعلیمی اداروں کے ذمہ دارو ںکی جانب سے اپنا رجسٹریشن کروایا گیا تھا لیکن سال حال نئی شرائط کے سبب تاحال 6000 تعلیمی اداروں کی جانب سے پورٹل پر رجسٹریشن کروایا گیا ہے اس کے باوجود محض 6ہزار تعلیمی ادارو ںکے اندراج سے ہی نشانہ مکمل ہوچکاہے اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ روزانہ کے اساس پر 500 تعلیمی اداروں کے رجسٹریشن اور انہیں آدھار سے مربوط کرنے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ درخواستوں کے ادخال کو یقینی بنایا جاسکے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی اسکالر شپس کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لینے والے عہدیدارو ںکا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی اسکالر شپس میں ہونے والی تاخیر کے بنیادی اسباب میں سال 2017 سے زیر التواء اسکالرشپس کی درخواستوں کی یکسوئی کو ترجیح دیئے جانے کے احکامات ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات کے مطابق اب تک جو بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے اس کے ذریعہ زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کی گئی ہے لیکن اب جو بجٹ جاری کیا جائے گا اس میں سال 2019-20 اور 2020-21 کی درخواستوں کی یکسوئی عمل میں لائی جائے گی۔ جناب شاہنواز قاسم نے بتایا کہ اوورسیز اسکالر شپس کی اجرائی کے معاملہ میں فوری طور پر اقدامات کئے جا رہے ہیں اور تیسرے کوارٹر کے وصول ہوتے ہی بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی اسکالر شپس بھی جاری کردی جائیں گی۔ انہو ںنے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ اسکالر شپس کی اجرائی میں طلبہ اور تعلیمی اداروں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن کورونا وائرس کے دور میں تمام شعبوں پر پڑنے والے منفی اثرات اب زائل ہونے لگے ہیں اور جلد ہی اسکالر شپس کی اجرائی پر ہونے والے اثرات کو بھی دور کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔م
