ریاستی اقلیتی کمیشن کا اجلاس

   

صدرنشین محمد قمرالدین نے 9 مقدمات کی سماعت کی

حیدرآباد 26 جنوری (پریس نوٹ) صدرنشین ریاستی اقلیتی کمیشن محمد قمرالدین نے آج اپنے اجلاس پر 9 مقدمات کی سماعت کی۔ اس موقع پر رکن کمیشن ایم اے عظیم کے علاوہ ایم اے باسط موظف جج، فاروق علی خان، پی سائی، ایم اے قدیر صدیقی، ایم اے رحیم اور ایم اے رفیق مشیران کمیشن موجود تھے۔ ایک مقدمہ جو ضلع وقارآباد کے موضع دھرور سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں کے نئے سروے نمبر 359 اور 360 کے تحت 2.20 ایکر اراضی جو پٹہ دار امینہ بیگم نے مسلم قبرستان کے لئے وقف کی تھی تاہم اس پر قبضہ ہوگیا۔ درخواست گذار کی جانب سے وقف انسپکٹر صابر حسین کے علاوہ ایس آئی دھرور پی شنکر، وی آر او بھی موجود تھے۔ رسپاؤنڈنٹ جی آشماں کی جانب سے ایم ممتا اور ایس آر بلیسنگٹن نے وکالت نامہ داخل کیا۔ اس کیس میں مشترکہ سروے کا انتظار ہے۔ اس ضمن میں ڈسٹرکٹ سرویئر، آر ڈی او اور ٹی ای او وقف بورڈ کو نوٹس جاری کی گئی ہے۔ اس کیس کی مزید سماعت 22 فروری کو مقرر کی گئی ہے۔ ایک اور کیس موضع کروملا گھٹکیسر ضلع میڑچل عیدگاہ اور قبرستان کمیٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ محمد جہانگیر صدر نے شیخ وزیر، محمد سلیم اور شیخ قادر کے خلاف مقامی افراد نے عیدین پر مسجد کے نام سے غیر قانونی پیسہ وصول کرنے کی شکایت کی۔ نوٹس کی وصولی کے بعد درخواست گذار کی جانب سے محمد ظہیر احمد ایڈوکیٹ پیش ہوئے۔ جبکہ ریسپانڈنٹ شخصی طور پر موجود تھے۔ محمد یوسف نے کہاکہ مسجد کی تعمیر ہونا ہے اور کمیٹی کے مشیر بھی موجود تھے۔ اُنھوں نے تحریری جواب داخل کیا۔ اس کیس کی مزید سماعت 22 فروری کو مقرر ہے۔ ایک کیس چیلہ پورہ حیدرآباد کے ایک مکان سے متعلق تھا۔ درخواست گذار موجود تھے اور رامیش باجوری ایس آئی چارمینار پولیس بھی موجود تھے۔ اس کیس میں ڈائرکٹر جنرل پولیس اور کمشنر سٹی پولیس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ اس کیس کی مزید سماعت 22 فروری کو مقرر ہے۔ درخواست گذار محمد یٰسین نے کمیشن کے اجلاس پر پیش ہوتے ہوئے بتایا کہ گلشن کالونی شیخ پیٹ میں سیلنگ لینڈ ان کے قبضہ میں ہے لہذا اس کو باقاعدہ بنایا جائے گا۔ ملیش کمار تحصیلدار اربن لینڈ سیلنگ حیدرآباد موجود تھے۔ اُنھوں نے حتمی رپورٹ داخل کرنے کے لئے وقت طلب کیا۔ کیس کو 22 فروری تک ملتوی کردیا گیا۔ متولی تاویلہ سفر خان وقف ملک پیٹ جی ایم خان نے وقف بورڈ سے رقم وصول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ وقف انسپکٹر آڈیٹر صابر حسین نے تفصیلات داخل کرنے کے لئے وقت طلب کیا۔ کیس کو 22 فروری تک ملتوی کردیا گیا۔ محمد خالد سردار موظف ایڈیشنل ٹاؤن پلانر جی ایچ ایم سی نے شکایت کی کہ انھیں وظیفہ کے فوائد حاصل نہیں ہورہے ہیں کیوں کہ محکمہ جاتی تحقیقات زیرالتواء ہے۔ اس موقع پر درخواست گذار موجود تھے۔ جی ایچ ایم سی کے کونسل پی سائی بھی موجود تھے۔ طرفین کے دلائل کی سماعت کے بعد فیصلہ کو محفوظ کردیا گیا۔ ایک اور کیس میں افضل علی موظف ٹاؤن پلاننگ سپروائزر جی ایچ ایم سی نے شکایت کی۔ ان کا معطلی کا وقفہ باقاعدہ بنایا جائے اور ان کا وظیفہ دوبارہ مقرر کیا جائے۔ جی ایچ ایم سی کے کونسل پی سائی موجود تھے۔ کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کردیا گیا۔ کیس نمبر 270/2018 اور کیس نمبر 271/2018 جو کنٹہ پور کی اراضیات کے متعلق تھا، کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کردیا گیا۔