اساتذہ پر کئی غیرضروری شرائط نامناسب ، اُردو ٹیچرس اسوسی ایشن کے ذمہ داروں کی پریس میٹ
محبوب نگر ۔ 7 مارچ ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) اردو ٹیچرس اسوسی ایشن ریاست تلنگانہ نے ایک پریس میٹ میں بتایا کہ چیرمین تعلیمی کمیشن تلنگانہ نے 45 صفحات پر مشتمل جو رپورٹ پیش کی ہے ، اس رپورٹ پر اسوسی ایشن سخت مذمت کرتی ہے۔جو اساتذہ انٹر کے بعد ڈی ایڈ کرتے ہیں ان کو ملازمت کے موقع فراہم ہوتے ہیں لیکن اس کمیشن کے ذریعے ڈگری اور بی ایڈ کو ضروری کرنے کے بعد ڈی ایڈ بے اہمیت ہو جاتا ہے جبکہ ڈی ایڈ کا تعلق این سی ٹی ای سے ہے ۔ان کی رپورٹ کے اندر امتحانات میں 35 نشانات سے 45 نشانات کامیاب کے لیے رکھا گیا ہے یہ کہاں تک درست ہے کیونکہ یسی ای ار ٹی اور ایگزامنیشن بورڈ طلبہ کو آسان مشکل اور آبجیکٹو ٹائپ پر مشتمل سوالات تیار کرتے ہیں جس کے لیے طلبہ کی معیار کے لحاظ سے 35 نشانات ہی بہتر ہے۔ تعلیمی کمیشن کی رپورٹ میں تنخواہ کے متعلق کہا کہ تنخواہیں اساتذہ کرام کی بہت زیادہ ہے ان کو اور نہ بڑھایا جائے اس کی بجائے ان کے کام کرنے کی صلاحیتوں کو دیکھ کر پرموشن یعنی ترقی دی جائے ۔اس کے علاوہ مولانا ابوالکلام آزاد اردوقومی یونیورسٹی جو حیدر آباد میں ہے دوسرے یونیورسٹی کو تقابل کرتے ہوئے کیوں پیش کیا جا رہا ہے ، کیوں تعصب بھرا جارہا ہے کنٹریکٹ اور آؤٹ سورسنگ کے اساتذہ کو لے کر ریگولر اساتذہ کو اس کا کمیشن کے ذریعے برخاست کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح سے جب کوئی ٹیچر کا تقرر ہوتا ہے ابتدا سے لے کر وظیفے پر سبکدوشی تک اسی مقام پر ایک ہی جگہ کام کرے یہ کہاں تک درست ہے ۔ پریس میٹ میں ریاستی صدر خواجہ قطب الدین ، انصاری بن احمد طاہر بازہر ریاستی نائب صدر جناب محمد سلام خان ضلعی صدر جناب محمد اعجاز علی معتمد محبوب نگر نے شرکت کی۔