ریاستی حکومت سے سرکاری ملازمین کی ناراضگی کی اطلاعات

   

چیف منسٹر کے بعض ریمارکس پر ملازمین یونین کے بعض قائدین مایوس، گیارہویں پے کمیشن کی یکسوئی کی اُمید
حیدرآباد۔/25 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت آیا اپنے ملازمین کے مسائل کی یکسوئی بالخصوص پے ریویژن کمیشن کی تشکیل و دیگر مسائل کی عاجلانہ یکسوئی سے دلچسپی رکھتی ہے؟۔ اس طرح کے مختلف سوالات و خدشات ریاست کے سرکاری ملازمین میں پائے جاتے ہیں۔ جبکہ ریاستی سرکاری ملازمین یونینوں کی مشترکہ تنظیم تلنگانہ ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین نے بھی گزشتہ دنوں قبل چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھرراؤ کی جانب سے سرکاری ملازمین کے تعلق سے کئے ہوئے بعض ریمارکس کے بعد اپنی توقعات و اُمیدوں سے متعلق مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ ملازمین یونین کے بعض قائدین کا یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بہر صورت سرکاری ملازمین کیلئے گیارہویں پے کمیشن کی بہت جلد یکسوئی ہوگی اور ملازمین یونینوں کی مشترکہ تنظیم ایمپلائز جائنٹ ایکشن کمیٹی قائدین کو پے ریویژن کمیشن کے مسئلہ پر طلب کرکے مشاورت کریں گے۔ جبکہ دیگر بعض یونین قائدین میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اس طرح کی اطلاعات گزشتہ سال ماہ ڈسمبر میں منعقدہ اسمبلی انتخابات اور بعد ازاں منعقدہ لوک سبھا انتخابات کے موقع پر نہ صرف سنائی دے گئیں بلکہ ہر ایک میں عام ہوتی گئیں۔ لیکن اب تک کوئی عملی اقدامات کی توقع نہیں پائی جارہی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مرتبہ ملازمین کیلئے پے ریویژن سے متعلق عبوری راحت ( آئی آر ) کا اعلان نہیں رہے گا۔ ( بعض عبوری راحت نہیں دی جائے گی ) بلکہ راست طور پر فٹمنٹ ہی دیئے جانے کا وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے اعلان کیا ہے۔ اس طرح اس اعلان کی روشنی میں اب سرکاری ملازمین یونینوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی چیف منسٹر کی جانب سے بات چیت کیلئے مدعو کرنے کی منتظر دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن ابھی تک بھی چیف منسٹر کی جانب سے سرکاری ملازمین کی جائنٹ ایکشن کمیٹی قائدین کو طلب کرنے اور بات چیت کرنے کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی ہے

اور نہ ہی کوئی ردعمل حکومت کی جانب سے دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ بعض اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے یہ اطلاع پھیلائی جارہی ہیں کہ چیف منسٹر بہت جلد ملازمین یونین تنظیموں کے قائدین کو مدعو کرکے پے ریویژن کے مسئلہ پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان اطلاعات کے تعلق سے بھی ملازمین اور ملازمین تنظیموں کے قادئین میں متضاد تاثر پایا جارہا ہے۔ ملازمین یونین قائدین کی جانب سے 63 فیصد فٹمنٹ کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن ریاست کے کمزور مالی موقف کی وجہ سے 20 فیصد تا 25 فیصد فٹمنٹ کی بعض یونین قائدین کی جانب سے توقع کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس طرح کی اطلاعات بعض عہدیداروں کی جانب سے بھی پھیلائی جارہی ہیں تاکہ ملازمین کا ذہن قبل از وقت بنایا جاسکے۔ باوثوق سرکاری ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کے مسائل کی یکسوئی میں ہونے والی تاخیر کے پیش نظر حکومت کے تعلق سے سرکاری ملازمین میں پائے جانے والے احساسات اور ردعمل کو جاننے اور رپورٹس دینے کی انٹلی جنس عہدیداروں کو چیف منسٹر آفس سے ہدایات دیئے جانے کی اطلاعات پائی جاتی ہیں اور اس بات کی بھی ہدایت دی گئی کہ ملازمین کے احساسات وغیرہ کا خفیہ انداز میں حصول کو ہی یقینی بنائیں تاکہ سرکاری ملازمین کو اس بات کا اندازہ نہ ہوسکے۔ ملازمین تنظیموں کے قائدین کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے تعلق سے سرکاری ملازمین میں کافی ناراضگی اور برہمی پائی جارہی ہے اور خود ملازمین حکومت کے خلاف احتجاجی لائحہ عمل کو قطعیت دینے کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر اپنا دباؤ بڑھا رہے ہیں۔لہذا اس تناظر میں احتجاجی لائحہ عمل کو قطعیت دیئے جانے کے امکانات کو مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا۔