حیدرآباد :۔ وزیر برائے افزائش مویشیاں ، سمکیات ، فروغ ڈیری اور سنیما ٹو گرافی جناب ٹی سرینواس یادو نے محکمہ سمکیات کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ رواں ماہ کی 26 تاریخ سے ریاست بھر میں 18 سال مکمل کرچکے ماہی گیروں کے لیے ممبر شپ رجسٹریشن پروگرام شروع کریں ۔ منگل کے روز اپنے دفتر میں انہوں نے محکمہ فشریز کے زیر اہتمام نافذ ہونے والے پروگراموں پر ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے 18 سال سے زیادہ عمر کے مودیراج ، گنگا پترولو ، ٹینوگو ، گنڈلابیستا ، بیستا اور مطار اسی قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کو اہل تسلیم کیا جانا چاہئے اور انہیں رکنیت دی جانی چاہئے ۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ماہی گیروں کی ترقی کے لیے حکومت کے ذریعہ نافذ کئے گئے فلاحی پروگراموں سے سب مستفید ہوں جو چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کا مقصد ہے ۔ ریاستی وزیر نے یاد دہانی کرائی کہ حکومت نے کروڑوں روپئے کی لاگت سے مفت مچھلیوں کے بچوں کی تقسیم اور جھینگے کی تقسیم کے علاوہ ، ماہی گیروں کو سبسیڈی پر مختلف گاڑیوں کی فراہم کرے گی ۔ انہوں نے کمشنر لچھیرم بھکیا کو ہدایت کی کہ وہ سبھی مستفید افراد کو سرکاری اسکیموں سے استفادہ کرنے کے نظریہ کے ساتھ کے سی آر کی ہدایت کے مطابق ممبر شپ رجسٹریشن پروگرام تیار کریں ۔ ممبروں کو بتایا گیا کہ حکومت سے تقسیم کی جانے والی مچھلیوں کو پکڑنے انہیں تالابوں پر حقوق دئیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ممبران کا رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد ماہی گیری کوآپریٹیو سوسائٹیوں کے لیے انتخابات منعقد کئے جائیں گے ۔ اسی طرح فروری کے پہلے ہفتے میں 150 موبائل فش مارکٹ کا آغاز کیا جائے گا ۔ 6 لاکھ روپئے سرکاری سبسیڈی ہے ، اس اسکیم کے تحت مستفید افراد کو 4 لاکھ روپئے ادا کرنے ہوں گے ۔ اس طرح اس اسکیم کو بنایا گیا ہے کہ 3 سے 5 خواتین پر مشتمل ایک ٹیم کو ایک گاڑی مہیا کرائی جائے گی ۔ ماہی گیر خواتین نے بتایا کہ وہ اس گاڑی کے ذریعہ مچھلی اور مچھلی کے پکوان فروخت کر کے خود روزگار حاصل کریں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کو جی ایچ ایم سی کے ساتھ اضلاع میں 3 کی شرح سے فراہم کئے جائیں گے ۔۔