جملہ 179 درخواستوں کا حصول، حکومت کی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کا تذکرہ، اپوزیشن کی مخالف مہم پر تنقید
حیدرآباد۔/9 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) وزیر بہبودی پسماندہ طبقات و ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے آج کانگریس کے ہیڈکوارٹر گاندھی بھون میں عوامی مسائل کی سماعت کی۔ ہفتہ میں دو دن گاندھی بھون میں ریاستی وزراء کی آمد کے پروگرام کے تحت پونم پربھاکر نے آج گاندھی بھون میں عوام سے ملاقات کی۔ پونم پربھاکر صبح 10 بجے سے گاندھی بھون میں دستیاب تھے اور انہوں نے عوامی مسائل کی سماعت کے علاوہ تحریری نمائندگیاں وصول کی۔ ریاستی وزیر نے بعض ضلع کلکٹرس اور اعلیٰ عہدیداروں سے ربط قائم کرتے ہوئے عوامی مسائل سے واقف کرایا۔ دوپہر ایک بجے تک پونم پربھاکر نے عوام اور پارٹی کارکنوں سے ملاقات کی۔ سماعت میں جملہ 179 درخواستیں داخل کی گئیں۔ سرکاری اسکیمات سے متعلق ضلع کلکٹرس کیلئے 22 ، محکمہ ٹرانسپورٹ سے متعلق 42 اور دیگر محکمہ جات کے مسائل پر مبنی 115 درخواستیں داخل کی گئیں۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ عوام اور حکومت کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا قائدین اور کارکنوں کی ذمہ داری ہے۔ صدر ضلع کانگریس کمیٹی خیریت آباد روہن ریڈی، رکن اسمبلی کے ستیہ نارائنا اور دیگر قائدین اس موقع پر موجود تھے۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ اعلیٰ کمان کی ہدایت پر ریاستی وزراء کی عوام سے ملاقات کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ پارٹی کارکنوں نے بھی اپنے مسائل پیش کئے ہیں۔ ریونت ریڈی حکومت کئی ایک فلاحی اسکیمات پر عمل پیرا ہے۔ اندراماں انڈلو پروگرام کے تحت عنقریب اسکیم پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ اسکیم کیلئے عوام کی جانب سے درخواستیں وصول ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راشن کارڈ اور ہیلت پر مبنی ڈیجیٹل کارڈز کی تیاری کا کام پائلٹ پراجکٹ کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ سرکاری محکمہ جات میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ گاندھی بھون پہنچنے پر کارکنوں کے مسائل جاننے کا موقع ملا ہے اور حکومت پارٹی کارکنوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے خلیجی ممالک میں فوت ہونے والے تلنگانہ ورکرس کے پسماندگان کو 5 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کی ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم، صحت اور روزگار شامل ہیں۔ حکومت نے دس ماہ میں 6 ضمانتوں پر عمل آوری کا آغاز کردیا ہے۔ حالیہ سیلاب کے امدادی کاموں کیلئے مرکز نے صرف 400 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں جبکہ مجموعی نقصانات 10 ہزار کروڑ سے زائد ہیں۔ پونم پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس اور بی جے پی نے حکومت کے خلاف مہم کا آغاز کیا ہے اور یہ دونوں پارٹیاں اندرونی طور پر متحد ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کو سبق سکھائیں۔ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں شکست کے باوجود بی آر ایس کی عقل ٹھکانے نہیں آئی ہے۔1