ریاستی وقف بورڈ کے اجلاس میں 86 ایجنڈوں کو قطعیت

   

عملہ کی تاخیر سے آمد اور من مانی پر اظہار برہمی، عہدیداروں سے تعاون پر زور
حیدرآباد۔4۔جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں عہدیداروں کی من مانی مزید نہیں چلے گی۔ بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں عہدیدار صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ اور اراکین بورڈ کے ساتھ تعاون کریں۔ بورڈ میں عہدیداروں کی من مانی کے سبب صدرنشین بورڈ و اراکین بورڈ کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے اجلاس کے دوران صدرنشین جناب محمد مسیح اللہ خان اور دیگر اراکین کے پہنچنے کے باوجود عہدیداروں کے پہنچنے میں تاخیر پر رکن تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد فاروق حسین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ میں دفتری اصولوں کو بہتر بنانے کی ہدایت دی۔بورڈ کے اجلاس کے آغاز سے قبل مولانا حضرت سید قبول پاشاہ قادری شطاریؒ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے ارکان خاندان سے تعزیت کے علاوہ ان کے لئے دعاء کی گئی۔صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان کی صدارت میں منعقدہ وقف بورڈ کے اجلاس میں جملہ 86 ایجنڈوں کو قطعیت دی گئی اور ان امور کو حل کرنے کے اقدامات کئے گئے ۔اجلاس میں مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری ‘مولانا سید نثار حسین حیدرآغا‘ جناب کوثر محی الدین رکن اسمبلی کاروان‘ جناب محمد فاروق حسین‘ جناب ذاکر حسین جاوید اور چیف اکزیکیٹیو آفیسر جناب سید خواجہ معین الدین موجود تھے۔ جناب محمد فاروق حسین نے اجلاس کے آغاز میں عہدیداروں کی عدم موجودگی کے سبب تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ اس طرح کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جہاں پر نمائندوں کے بعد عہدیدار دفتر پہنچ رہے ہیں۔ انہو ں نے استفسار کیا کہ جب بورڈ کے اجلاس کے دن عہدیدار تاخیر سے بورڈ کو پہنچ رہے ہیں تو عام دنوں میں بورڈ کی صورتحال کیا ہوتی ہے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اجلاس میں بیرسٹر اسدالدین اویسی ‘ مولانا سید ابوالفتح بندگی پاشاہ قادری ‘ جناب ملک معتصم خان اور محترمہ یاسمین شیخ آئی اے ایس نے شرکت نہیں کی ۔ اجلاس کے دوران مختلف اوقافی اداروں کی تولیت کمیٹیوں اور منیجنگ کمیٹیوں کی منظوری کوقطعیت دے دی گئی ۔ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین نے بورڈ کی جانب سے منظورہ اداروں کے متعلق احکامات کی اجرائی کے سلسلہ میں ہونے والی تاخیر کے متعلق دریافت کیا اور کہا کہ بورڈ جن امور کو منظوری دے رہا ہے ان کے متعلق احکامات کی اجرائی میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔ وقف بورڈ نے بدعنوانیوں کی شکایات پر بعض متولیوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کرنے کے لئے کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔م