سبیتا اندرا ریڈی ‘ ٹی ہریش راو اور کے ٹی آر کے نام زیر غور ۔ چیف منسٹر کی مشاورت کا آغاز
حیدرآباد۔10 جون(سیاست نیوز) ریاستی کابینہ میں توسیع کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے اقدامات کا آغاز کیا جا چکا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ کابینہ میں توسیع کے ذریعہ خاتون وزیر کو کابینہ میں شامل کیا جائیگا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کانگریس سے تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شامل رکن اسمبلی مہیشورم و سابق وزیر داخلہ آندھرا پردیش مسز سبیتا اندرا ریڈی کو کابینہ میں شامل کئے جانے کا امکان ہے۔ تلنگانہ میںسال 2008کے اواخر میں منعقدہ اسمبلی انتخابات کے بعد چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے صرف وزیر داخلہ کے ساتھ عہدہ کا حلف لیا تھا اور بعد ازاں 10ارکان کو کابینہ میں شامل کیا گیا تھا اس طرح اب ریاست میں چیف منسٹر کے بشمول 12اراکین کابینہ موجود ہیں اور مزید 6 ارکان کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کابینہ میں توسیع کے سلسلہ میں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے مذاکرات شروع کردیئے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ مسز سبیتا اندرا ریڈی کے علاوہ دیگر کو بھی کابینہ میں شامل کئے جانے کے سلسلہ میں غور کیاجا رہاہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ کابینہ کی توسیع میں مسٹر ٹی ہریش راؤ کے علاوہ کارگذار صدر تلنگانہ راشٹر سمیتی مسٹر کے ٹی راما راؤ کو بھی شامل کئے جانے پر غور کیا جا رہاہے کیونکہ کابینہ کی تشکیل کے دوران ان اہم قائدین کو نظر انداز کیا گیا تھا اور اب کہا جارہاہے کہ ان کے علاوہ دیگر کی کابینہ میں شمولیت کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا جانے لگاہے۔ واضح رہے کہ رکن اسمبلی مہیشورم سبیتا اندرا ریڈی نے کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر اسی شرط کے ساتھ تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کی ہیں کہ انہیں ریاستی کابینہ میں شامل کیا جائے۔بتایاجاتا ہے کہ ریاستی کابینہ میں توسیع کے سلسلہ میں سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی ریاست میں کئی ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسل سرگرم ہوچکے ہیں اور اپنے طور پر اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں کابینہ میں شامل کیا جائے ۔ چیف منسٹر کے ذرائع کے مطابق جن اہم قائدین کو کابینہ میں جگہ فراہم نہیں کی جاسکے گی ان کو پارلیمانی سیکریٹری کے عہدے فراہم کئے جائیں گے جو کہ کابینی درجہ کے حامل ہوں گے۔کانگریس سے انحراف کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کرنے والے بیشتر ارکان اسمبلی بھی اس امید میں ہیں کہ انہیں کابینی درجہ کسی نہ کسی طرح سے حاصل ہوجائے گا اور اسی کوشش میںبھی ہیں۔