٭ اضلاع میںعام زندگی درہم برہم ۔ شہر میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ‘ تعلیمی اداروں کو تعطیل
٭ عثمان ساگر کے 6 اور حمایت ساگر کے چار دروازے کھول دئے گئے ۔ موسی ندی میںپانی کا اخراج
٭ جئے شنکر بھوپال پلی میں تین ‘ ونپرتی میں دو ہلاک ۔ شہر میں چار سالہ معصوم بہہ گیا
حیدرآباد 5 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کے بیشتر اضلاع اور شہر حیدرآباد میں ریکارڈ بارش نے حیدرآباد وسکندرآباد کے کئی علاقوں کو جھیل میں تبدیل کردیا جبکہ موسلادھار بارش کے سبب ذخائر آب کی سطح میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے محکمہ آبرسانی نے حمایت ساگر کے 4 اور عثمان ساگر کے 6 دروازوں کو 2 فیٹ تک کھولتے ہوئے موسیٰ ندی میں پانی کے اخراج کا فیصلہ کیا ۔گذشتہ 24گھنٹوں میںبارش کے نتیجہ میں 6اموات کی توثیق ہوئی جن میںجئے شنکر بھوپال پلی میں بجلی گرنے کے نتیجہ میں 3 اموات کے علاوہ ونپرتی میںتالاب میں بہنے سے 2 افراد کی موت کے علاوہ پرگتی نگر حیدرآباد میں 4 سالہ معصوم کے بہہ جانے سے موت شامل ہے۔ صبح کی اولین ساعتوں میں شروع ہونے والی بارش کے ساتھ ہی شہر کے کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہونے کے علاوہ سڑکوں پر جمع ہونے کی شکایات ملیںاور بلدیہ حیدرآباد کے شعبہ ای وی ڈی ایم نے دونوں شہروں کے کئی علاقوں میں جمع پانی کی نکاسی کا آغاز کیا۔ صبح بارش کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت سے تعلیمی اداروں کیلئے تعطیل کا اعلان کیا گیا اور دونوں شہروں میں ایک مرتبہ پھر طلبہ کے اسکول پہنچنے کے بعد ہی تعطیل کا پتہ چلا ۔ جس کے نتیجہ میں اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی اور خانگی ماہرین کی درست پیش قیاسی کے بعد صبح اولین ساعتوں سے شروع ہوئی بارش کا سلسلہ 3 گھنٹے تک جاری رہا اور ان تین گھنٹوں میں شہر کے کئی علاقوں میں 10تا14 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ محکمہ موسمیات کی تفصیلات کے مطابق تلنگانہ اور حیدرآباد میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 11 تا20 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔ حکومت کی جانب سے آئندہ دو یوم کیلئے ریڈ الرٹ جاری کرکے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ بلا ضرورت شدید گھروں سے نکلنے سے اجتناب کریں۔ ریاست میں شدید بارش سے شہر کے بیشتر علاقوں مولی ٰ کا چھلہ ‘ یاقوت پورہ ‘ تالاب کٹہ ‘ آدتیہ نگر کالونی ‘ ٹولی چوکی ‘ نلہ کنٹہ ‘ منی کنڈہ‘ گچی باؤلی‘ شیخ پیٹ ‘ کے علاوہ کئی مصروف سڑکوں پنجہ گٹہ ‘ سوماجی گوڑہ ‘ امیر پیٹ‘ شاہ میر پیٹ‘ کوکٹ پلی ‘ قطب اللہ پور‘ کرشنا نگر‘ یوسف گوڑہ ‘ میں سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی شکایات ملیں۔ بلکم پیٹ انڈر پاس میں پانی جمع ہونے سے کئی گھنٹوں تک راستہ کو بند کردیا گیا تھا جبکہ کئی مقامات پر بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے سے کئی گھنٹوں تک ٹریفک کے مسائل رہے ۔ ٹریفک پولیس و لاء اینڈ آرڈر پولیس عہدیدار و ملازمین کی جانب سے نہ صرف ٹریفک کو بحال کرنے بلکہ پانی کی نکاسی میں مدد کا سلسلہ بھی جاری تھا اس کے باوجود ٹریفک کو بحال نہیں کیا جاسکا۔ دونوں شہروں کے نوآبادیاتی علاقوں منی کنڈہ ‘ رچہ کنڈہ ‘ گچی باؤلی‘ اپل ‘ ناچارم اور دیگر مقامات پر بھی بارش کا پانی گھروں و فلیٹس میں داخل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑا اور ماروتی نگر کے علاوہ اطراف کے علاقوں میں عمارتوں کی پہلی منزل تک پانی جمع ہونے کے نتیجہ میں شہریوں کو مشکل صورتحال پیش آئی ۔ ذرائع کے مطابق پرگتی نگر این آر آئی کالونی کے نالہ میں 4سالہ معصوم کے بہہ جانے کی اطلاع ہے۔نرمل ‘ نظام آباد ‘ جگتیال‘ پدا پلی‘ جئے شنکر بھوپل پلی ‘ محبوب آباد‘ ورنگل ‘ ہنمکنڈہ ‘ کریم نگر‘ سرسلہ ‘ کاماریڈی ‘ سنگاریڈی ‘ میدک‘سدی پیٹ ‘ جنگاؤں ‘ یدادری‘ ملکا جگری۔میڑچل کے علاوہ حیدرآباد‘ رنگاریڈی ‘ وقارآباد‘ نارائن پیٹ اورگدوال میں معمول سے زیادہ بارش ہوئی ۔ مئیر حیدرآباد محترمہ جی وجئے لکشمی نے شہر کے کئی علاقوں کا دورہ کرکے پانی کی نکاسی کے اقدامات کا جائزہ لیا اور حلقہ اسمبلی قطب اللہ پور میں بارش کا پانی داخل ہونے سے متاثر مکانات کا دورہ کرکے متاثرین سے بات کی ۔ بعد ازاں انہوں نے گوشہ محل میں بارش متاثرین کیلئے راحت کاری مرکز پہنچ کر وہاں موجود افراد سے بات کی ۔ دونوں شہروں میں موسلادھار بارش سے پیدا صورتحال کو دیکھتے ہوئے مئیر حیدرآباد نے ایمرجنسی شعبہ کو متحرک رہنے اور پانی کی نکاسی و بارش کے متاثرین کیلئے راحت کاری اقدامات کا فوری آغاز کرنے ہدایات دی ۔ حمایت ساگر و عثمان ساگر کے ذریعہ موسیٰ ندی میں پانی کے اخراج کے ساتھ ہی موسیٰ ندی کے پانی کے بہاؤ میں تیزی اور سطح آب میں اضافہ ہوگیا اور موسی رام باغ برج کی سطح تک پانی پہنچنے کے ساتھ ہی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانے لگی ہیں۔