اردو یونیورسٹی کے طلبہ سے ملاقات، اراضی کے تحفظ کیلئے دہلی تک لڑنے کا اعلان
حیدرآباد ۔ 9 جنوری ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی اراضیات سے متعلق کانگریس حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اس وقت ریئل اسٹیٹ بروکر کے ہاتھ میں چلے گئی ہے اور حکومت ایک کے بعد ایک تعلیمی اداروں کی اراضیات کو ہتھیانے کی کوشش کررہی ہے۔ آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے طلبہ نے حیدرآباد کے منتری نگر میں کے ٹی آر سے ان کی قیام گاہ پر ملاقات کی جس میں یونیورسٹی کی 50 ایکڑ اراضی پر کانگریس حکومت کی مبینہ سازشوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ یونیورسٹی کی کوئی زمین خالی نہیں ہے اور مستقبل کی توسیع کے منصوبے پہلے سے تیار ہیں۔ اس کے باوجود حکومت دانستہ طور پر اردو یونیورسٹی کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کے ٹی آر نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی اردو یونیورسٹی کے عوامی مفاد میں شہر حیدرآباد کے لئے آؤٹر رنگ روڈ کی تعمیر کے لئے 32 ایکڑ اراضی دی تھی۔ ساتھ ہی خواجہ گوڑہ سے نانک رام گوڑہ تک لنک روڈ کی تعمیر کے لئے 7 ایکڑ اراضی فراہم کی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آر ایس نے کبھی بھی عوامی ضروریات کے لئے اراضیات کے حصول کی مخالفت نہیں کی لیکن تعلیمی اداروں کی اراضیات کو ریئل اسٹیٹ کے لئے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اردو یونیورسٹی کی زمین پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور اس معاملے پر بی آر ایس دہلی تک لڑائی لڑے گی۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کانگریس کے قائد راہول گاندھی پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو خود کو اقلیتوں کا محافظ کہتے ہیں انہیں بتانا چاہئے کہ اردو نیشنل یونیورسٹی کی اراضی چھین لینا ہی اقلیتوں کے تحفظ کا طریقہ ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہی وہ محبت کی دکان ہے جس کا راہول گاندھی دعویٰ کرتے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی 50 ایکڑ اراضی چھین لینے کی کوشش کی سختی سے مخالفت کرتی ہے اور اس احتجاج میں پوری طرح طلبہ کے ساتھ کھڑے رہے گی۔ بی آر ایس کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد اردو یونیورسٹی سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔ توسیعی سہولیات کے لئے فنڈس مختص کئے جائیں گے۔ 2
