آر بی آئی اور مرکزی حکومت کی جانب سے قرضہ جات کی ادائیگی میں راحت سے کوئی فائدہ نہیں
حیدرآباد۔7اپریل(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کو یومیہ 400تا450کروڑ کے نقصانات کا سامنا ہے اوران حالات میں ریزرو بینک آف انڈیا اور مرکزی حکومت کی جانب سے قرضہ جات کی ادائیگی پر تین ماہ کی روک سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ریاست کی معیشت میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو بہتر بنانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گذشتہ یوم پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ریاستی حکومت کوعام ایام کے دوران 6دن میں 2 ہزار 400 کروڑ کی آمدنی ہوا کرتی تھی لیکن کورونا وائرس کے سبب جاری لاک ڈاؤن کی صورتحال میں ریاستی حکومت کو صرف 2کروڑ کی آمدنی حاصل ہوئی ہے اور اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ چیف منسٹر نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات کے یقین کا بھی اظہار کیا کہ لاک ڈاؤن کے اختتام کے بعد ریاست اور ملک کے معاشی حالات کو معمول پر لایا جاسکتا ہے لیکن اس کے لئے وقت درکا ہوگا۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت یومیہ 450کروڑ کے نقصانات کا سامنا کررہی ہے اور ریاست کو 30ہزار کروڑ کے بینک قرضہ جات کے سود ادا کرنے ہیں علاوہ ازیں جملہ قرض کی رقم بھی اداشدنی ہے جو کہ ان حالات میں ممکن نہیں ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے کئے گئے اس انکشاف کے بعد ریاستی مالی حالت اور معیشت کے استحکام کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا اندازہ لگایا جانا مشکل نہیں ہے کیونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے صرف قرضہ جات کی ادائیگی پرتین ماہ کا روک لگایاگیا ہے جو کہ کافی نہیں ہے بلکہ ان تین ماہ کے دوران جو قرض ادا نہیں کیا جائے گا اس پر بھی بینکوں اور سودی ادارو ںکی جانب سے سود عائد کرنے کی گنجائش ہے جس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ صرف قرض کی اقساط کی ادائیگی میں راحت حاصل ہوگی لیکن جو اقساط ادا نہیں کئے گئے ہیں ان پر سود عائد ہوگا۔ انہوں نے اس راحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام اور ریاستی حکومتوں کو ان بھاری نقصانات سے بچانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے اور حالات کے معمول پر آنے کے بعد وہ اس سلسلہ میں اقدامات کا جائزہ لیں گے۔