ریاست میںاسکولوں کا باضابطہ آغاز نہیں ہو پایا

   

طلباء کا اسکول آمد سے ہنوز گریز ۔ گھروں تک پہونچ کر کونسلنگ کرنے حکام کا فیصلہ
حیدرآباد۔ریاست کے کسی بھی اسکول میں نویں تا بارہویں جماعت کے طلبا کیلئے باضابطہ اسکولوں کا آغاز نہیں ہوسکاہے کیونکہ کسی بھی اسکول میں طلبا نہیں پہنچے جبکہ سرکاری اسکولو ں میں اساتذہ کی نصف تعداد موجود تھی خانگی اسکولوں اور انٹرمیڈیٹ کالجس میں طلبا کی آمد کو یقینی بنانے اقدامات کے باوجود 21ستمبر سے اسکولوں میں ان جماعتو ںکی کشادگی عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے طلباء اور اولیائے طلباء کو اختیار کے سبب طلبہ نے باضابطہ اسکول میں شرکت کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے جبکہ اساتذہ کا کہناہے کہ ریاستی حکومت سے مرکز کے احکام کے مطابق نویں تا بارہویں جماعت کلاسس کے آغاز کی مشروط اجازت فراہم کی جاچکی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ چند یوم میں طلباء اور اولیائے طلباء کی کونسلنگ کرکے انہیں کلاسس میں شرکت کیلئے رضامند کرنے اقدامات کئے جائیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی سرکاری اسکولوں میں نویں اور دسویں جماعت کے بچوں کی آمد کی توقع کی جا رہی تھی لیکن کسی بھی اسکول میں طلبہ کی قابل ذکر تعداد اسکول نہیں پہنچی جس کے سبب محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد تمام ضلع ایجوکیشنل آفیسرس سے رابطہ پیدا کرکے انہیں ہدایت دی کہ وہ اسکولوں میں موجود عملہ کے علاوہ جو عملہ اسکول نہیں آرہا ہے اس کے ذریعہ طلباء کے گھروں تک پہنچ کر اولیائے طلباء و سرپرستوں کی کونسلنگ کروائیں۔محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام سرکاری اسکولوں کے علاوہ انٹر میڈیٹ کالجس میں صفائی کے علاوہ سماجی فاصلہ کی برقراری اور دیگر رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کیلئے اقدامات کئے جاچکے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاستی حکومت کے اداروں میں کورونا سے محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے ۔اساتذہ اور مدرسین کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے نصف حاضری یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے پیش نظر نصف عملہ کو اسکول میں اور نصف عملہ کو طلبہ کے گھروں کا دورہ کرنے اور فیلڈ پر روانہ کرنے کے فیصلہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اسی لئے محکمہ تعلیم کے عہدیدارو ںکو اسکولوں کی کشادگی کا فیصلہ کرنا چاہئے ۔