ریاست میںکورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافہ

,

   

ایک ماہ میںٹسٹنگ کے ساتھ مریضوں کی تعداد بھی بڑھ گئی‘عوام کو احتیاط برتنے کا مشورہ

حیدرآباد : تلنگانہ میں کورونا کے پھیلاؤ کے سلسلہ میں ماہرین مختلف وجوہات بیان کر رہے ہیں ۔ 2 مارچ کو تلنگانہ میں کورونا کا پہلا کیس منظر عام پر آیا تھا ، اس کے بعد کیسیس کی تعداد 1000 تک پہنچنے میں 54 دن لگ گئے لیکن گزشتہ ایک ماہ کے دوران کیسیس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ہر تین دن میں کیسیس ایک ہزار سے تجاوز کر رہے ہیں۔ اس طرح تلنگانہ میں کورونا کا پھیلاؤ سست رفتاری سے ہوا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وائرس کی تیزی میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 15 تا 23 جون کے درمیان 4000 کیسیس ریکارڈ کئے گئے ۔ مرکزی وزارت صحت کے پاس موجود تفصیلات کے مطابق ریاستی حکومت نے 23 جون تک 63249 کورونا ٹسٹ انجام دیئے اور ان میں سے 15.20 فیصد پازیٹیو پائے گئے ۔ برخلاف اس کے آندھراپردیش حکومت نے ابھی تک 7 لاکھ ٹسٹ کئے ہیں اور وہاں 1.38 فیصد پازیٹیو پائے گئے۔ پازیٹیو کیسیس کی قومی سطح پر شرح 6.17 فیصد ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کیسیس میں اضافہ حکام کیلئے تشویش کا باعث بن چکا ہے ۔ سینئر عہدیدار اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد سے کیسیس میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران دیکھا گیا۔ پہلے ایک ہزار کیس 27 اپریل تک ریکارڈ ہوئے تھے جبکہ کیسیس کی تعداد دو ہزار پہنچنے میں 32 دن لگ گئے ۔ لیکن صرف 5 دنوں میں مجموعی کیسیس 3,000 سے تجاوز کر گئے ۔ فی الوقت ریاست میں پازیٹیو کیسیس کی تعداد 10,000 سے تجاوز کرچکی ہے ۔ یکم جون کے بعد سے ریاست میں روزانہ 100 سے زائد کیس ریکارڈ کئے گئے اور 23 جون کو یہ تعداد 879 ایک دن میں پہنچ گئی ۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران عدالت کے احکامات اور مرکز کی ہدایت کے بعد حکومت نے کورونا ٹسٹ ٹیم میں اضافہ کیا ہے۔