متاثر ہر 4 میں ایک آنکھ سے محروم ، سپرنٹنڈنٹ سروجنی ہاسپٹل راجہ لنگم کا تاثر
حیدرآباد :۔ بلیک فنگس انفیکشن ریاست میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد راحت کی سانس لے ہی نہیں پائے تھے کہ ان پر بلیک فنگس کا انفیکشن حاوی ہورہا ہے ۔ 90 فیصد افراد شوگر مریض ہے ساتھ ہی علاج کے دوران جنہیں اسٹرائیڈس دیا گیا ہے ۔ وہ اس انفیکشن کا شکار ہورہے ہیں ۔ سپرنٹنڈنٹ سروجنی آئی ہاسپٹل ڈاکٹر راما لنگم نے بتایا کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے زیادہ تر افراد آنکھوں کے مسائل سے دوچار ہورہے ہیں ۔ پہلے لوگوں کی آنکھیں سرخ ہورہی ہے ۔ کئی افراد بینائی سے محروم ہورہے ہیں ۔ انفیکشن زیادہ پھیلنے کی صورت میں زندگی بچانے کے لیے آنکھیں نکال دینے کی نوبت آرہی ہے ۔ متاثرین میں قوت مدافعت کم ہونے پر صرف دو تین دن میں فنگس آنکھوں کو متاثر کرسکتا ہے ۔ قوت مدافعت زیادہ رکھنے والوں کو یہ فنگس ایک ہفتہ میں آنکھوں کو متاثر کرسکتا ہے ۔ فنگس کی نشاندہی کرنے کے لیے سٹی اسکیان اور ایم آر آئی کیا جارہا ہے ۔ ناک سے فنگس کو حاصل کرتے ہوئے کلچر کے لیے روانہ کیا جارہا ہے ۔ انڈو اسکوپی کے ذریعہ کتنا نقصان پہونچا ہے ۔ اس کی نشاندہی کرتے ہوئے علاج کیا جارہا ہے ۔ ناک اور حلق میں بلیک فنگس انفیکشن ہو تو کوٹھی کے ای این ٹی ہاسپٹل میں علاج کیا جارہا ہے ۔ آنکھ کے فنگس کا سروجنی آئی ہاسپٹل میں علاج کیا جارہا ہے ۔ کورونا سے متاثر آنکھوں میں فنگس انفیکشن ہونے والے مریضوں کا گاندھی ہاسپٹل میں علاج کیا جارہا ہے ۔ روزانہ 15 تا 20 آپریشن کیے جارہے ہیں ۔ زیادہ تر متاثر 40 تا 60 سال عمر کے درمیان کے ہیں ۔ بلیک فنگس کے لیے زیادہ مہنگی ادویات کا استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ ایک انجکشن 4 ہزار روپئے پر مشتمل ہوتا ہے ۔ جس کو تین ماہ تک استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ ابھی تک 40 افراد کے آنکھوں کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے ۔ ہر چار میں ایک فرد بینائی سے محروم ہورہا ہے ۔ فنگس زیادہ ہونے پر آنکھوں کو بھی نکال دیا گیا ہے ۔ بعض لوگوں کو آپریشن کے ذریعہ ٹھیک کیا گیا بعض لوگوں کو ادویات سے ٹھیک کیا گیا ہے ۔۔