صدر مجلس ، ہریش راؤ کی طرح کے سی آر کی پارٹی کے ’ مرد بحران ‘ بن گئے ! اہم مسائل پر خاموش کیوں ، طلبہ ، پیشہ وارانہ ماہرین اور فکر مند عوام کے سوال
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : جمہوریت میں عوام آقا اور سیاستداں خادم ہوتے ہیں یعنی عوامی خدمت گذار ہوتے ہیں لیکن افسوس کے ہمارے ملک میں جمہوری اقتدار اس قدر گرچکی ہیں کہ سیاستداں آقا اور عوام غلام بن گئی ہے ۔ نتیجہ میں وہ جو چاہے کرسکتے ہیں ۔ اپنے رائے دہندوں کے نام پر سودے بازی کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں نے اپنے اور اپنی اولاد کے مفادات کا تحفظ کرلیا اور عوام کو بیوقوف بنایا ۔ بہرحال ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی زائد از 55 لاکھ ہے ۔ ایسے میں یہ سوال گشت کررہا ہے کہ مسلمان کس کی تائید کریں گے ؟ کسے اقتدار پر بٹھائیں گے ؟ اور کسے اقتدار سے محروم کریں گے ۔ اس ضمن میں آپ سب جانتے ہیں کہ اسد الدین اویسی کی زیر قیادت ایم آئی ایم بھر پور انداز میں مسلمانوں کو بی آر ایس کی تائید و حمایت کی ترغیب دے رہے ہیں ۔ اس تعلق سے ہم نے لوگوں سے بات کی جن میں کچھ دانشوروں ، ڈاکٹرس ، انجینئرس ، پیشہ وارانہ ماہرین اور سماجی جہد کار کے ساتھ ساتھ طلبہ بھی شامل ہیں ۔ بعض دانشوروں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا یہ کہنا تھا کہ بی آر ایس میں پہلے ہریش راؤ صرف ایک Troble Shooter یا مرد بحران ہوا کرتے تھے ۔ بی آر ایس کی پریشانی کو وہ حل کرنے میں آگے آگے رہتے تھے لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ بی آر ایس میں ایک نہیں دو ’ مرد بحران ‘ پیدا ہوگئے ہیں ایک ہریش راؤ اور دوسرے اسد الدین اویسی کیوں کہ وہ مختلف مسلم تنظیموں اور جماعتوں کو پر زور ترغیب دے رہے ہیں کہ بی آر ایس کی تائید کی جائے ۔ ان لوگوں کا یہ بھی سوال تھا کہ آخر اسد الدین اویسی کیونکر بی آر ایس کی تائید کے لیے مسلمانوں پر زور دے رہے ہیں ؟ کیا بی آر ایس نے ہندو انڈومنٹ بورڈ کو جس طرح کمیشن کا درجہ دیا۔ قانونی اختیارات تفویض کئے اس کے مماثل وقف کمیشن کا اپنا وعدہ پورا کیا ؟ کیا اسد الدین اویسی جو آج بی آر ایس کی تائید کا مسلمانوں کو مشورہ دے رہے ہیں آیا انہوں نے درگاہ حسین شاہ ولی منی کونڈہ جاگیر کی لاکھوں کروڑوں روپئے مالیتی اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کروانے میں کامیابی حاصل کی ؟ ہرگز نہیں ۔ آج بھی قیمتی اوقافی جائیدادوں کی اہم ترین فائیلیں حکومت کے قبضہ میں ہیں کیا اسد الدین اویسی نے کبھی اس بارے میں چیف منسٹر سے سوال کیا ؟ کہ آخر آپ نے موقوفہ جائیدادوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا اور منی کونڈہ جاگیر جیسی حتمی اوقافی جائیدادوں کو سرکاری قرار دلوانے میں مکرو کردار ادا کیا ۔ شہر کے ایک ممتاز انجینئرنگ کالج سے فارغ التحصیل سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے ایک انجینئر نے سوال کیا کہ کیا اسد الدین اویسی مسلم ووٹروں کے گتہ دار ہیں جو مسلمانوں کو حکمراں جماعت کے حق میں ووٹ دینے کی درخواست کررہے ہیں ؟ ایک اور بزرگ نے جو کافی برہم دکھائی دے رہے تھے یہ سوال کیا کہ اگر اسد الدین اویسی کو سیکولر طاقتوں کی اتنی ہی فکر ہے تو پھر انہوں نے مہاراشٹرا ، بہار ، راجستھان ، اترپردیش ، گجرات اور دوسری ریاستوں میں اپنے امیدوار میدان میں کیوں اتارے ۔ حالانکہ ان ریاستوں میں کانگریس فرقہ پرستوں کا مقابلہ کررہی ہے ۔ ایک پروفیسر کا کہنا تھا کہ اسد اویسی نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ریاست میں اقلیتی بہبود کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ واپس چلا جاتا ہے ۔ ایسے میں کیا ایس سی ، ایس ٹی کی طرح اقلیتی بہبود کے لیے سب پلان متعارف کیا جانا چاہئے ۔ ایک ماہر تعلیم کے خیال میں کانگریس دور حکومت میں قائم کردہ 56 اقلیتی انجینئرنگ کالجس میں سے 50 کو حکومت نے بند کردیا ۔ آج اسد الدین اویسی اس حکومت کی تائید کی مسلمانوں کو ترغیب دے رہے ہیں ۔ آخر کیوں ؟ پرانا شہر میں ہمیشہ مجلس کے حق میں ووٹ کا استعمال کرنے والے بعض سنجیدہ فکر مند حضرات نے سوال کیا کہ کیا کے سی آر اور بی آر ایس نے انتخابی حکمت ساز پرشانت کشور کی طرح اسد الدین اویسی کی خدمات حاصل کی ہیں وہ بی آر ایس کے حق میں ووٹ استعمال کرنے کی مسلمانوں کو ترغیب دے رہے ہیں ؟ اضلاع کے بعض شخصیتوں کے خیال میں اضلاع میں اسد الدین اویسی کی اپیل ان کی ترغیب کا کوئی اثر نہیں ہے مسلمان متحدہ طور پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے تاکہ فرقہ پرستوں اور مفاد پرستوں دونوں کو شکست ہو ۔۔